بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد کے لیےجمع شدہ رقم کسی دوسری مسجد میں استعمال کرنا


سوال

میں فوج میں ہوں، میں جہاں پر رہتا تھا وہاں پر ہمارے کیمپس میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی، اس کے اخراجات کو سبھی مقتدی آپس میں چندہ کے زریعہ پورا کرتے تھے ، مگر کچھ عرصہ بعد سارے لوگ وہاں سے منتقل ہو کر اور کہیں چلے گئے، اب اس مسجد میں نماز پڑھنے والا اور اس کی دیکھ بال کرنے والا کوئی نہیں ہے، اس مسجد کی کچھ رقم میرے پاس جمع ہے، میرا یہ سوال ہے کہ کیا اس رقم کو میں کسی دوسرے مسجد والوں کو دےسکتا ہوںیا نہیں؟ اگر نہیں تو اس رقم کا کیا کروں۔

جواب

واضح رہے کہ چندہ دہندہ گان کی طرف سے جس مسجد کے لئے رقم دیدی جائے اسے اسی مسجد کے مصارف میں خرچ کرنا لازم ہے،لیکن اگر کہیں اس مسجد کو ضرورت نہ رہے تو پھر دوسری قریبی مسجد میں خرچ کرنے کی اجازت ہوگی۔

لہذاصورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی وہ   مسجد غیر آباد ہوگئی ہو، اوراس کے آس پاس کے لوگ دوسری جگہ منتقل ہوگئے ہوں،اور اس میں کوئی نماز پڑھنے والا نہ ہو، اور نہ اس مسجد کو مذکورہ چندے کی ضرورت ہو، تو ایسی صورت میں وہ  رقم کسی  دوسری قریبی مسجد میں صرف کرنے کی اجازت ہے۔

 

سئل ‌شمس ‌الأئمة ‌الحلواني ‌عن ‌مسجد وحوض خرب ولا يحتاج إليه لتفرق الناس، هل للقاضي أن يصرف أوقافه إلى مسجد آخر؟ قال: نعم ولو لم يتفرق الناس ولكن استغنى الحوض عن العمارة وهناك مسجد يحتاج إلى العمارة أو على العكس، هل يجوز للقاضي صرف وقف ما استغني للعمارة إلى ما هو محتاج إلى العمارة؟ قال: لا.( المحيط البرهاني، كتاب الوقف، الفصل الرابع والعشرون، ج:6، ص:224 )

(‌حشيش ‌المسجد وحصره مع الاستغناء عنهما و) كذا (الرباط والبئر إذا لم ينتفع بهما فيصرف وقف المسجد والرباط والبئر) والحوض (إلى أقرب مسجد أو رباط أو بئر) أو حوض (إليه)... (قوله: إلى أقرب مسجد أو رباط إلخ) لف ونشر مرتب وظاهره أنه لا يجوز صرف وقف مسجد خرب إلى حوض وعكسه وفي شرح الملتقى يصرف وقفها لأقرب مجانس لها.(  رد المحتار، كتاب الوقف، فرع بناء بيتا للإمام فوق المسجد،  ج:4، ص:359 )


فتویٰ نمبر : 6543/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور