بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ایک بیوہ،ایک بھائی، دو حقيقی بہنوں اور ایک اخیافی بہن میں تقسیم میراث
سوال
محمد مسکین نامی شخص فوت ہو چکا ہے اس کے ماںباپ پہلے وفات پا چکے ہیں،اس كے بچے نہیں ہیں ۔ اس کے ورثا میں ایک بیوہ (آمنہ بی بی)ایک بھائی (جلادخان)دو حقیقی بہنیں (فرمین بی بی اور نور جہان )اور ایک اخیافی بہن(رامبیل) موجودہے۔ اب مذکورہ ورثا کے درمیان تقسیم میراث کس طرح ہو گی؟
جواب
میـــــــــــــــــــ(محمدمسکین)ـــــــــــــــــــــ(48)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوہ عینی بھائی عینی بہن عینی بہن اخیافی بہن
آمنہ بی بی جلاد خان فرمین بی بی نورجہان رامبیل
12 14 7 7 8
بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم (محمد مسکین) کےمذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو ، تو حقوق متقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد مرحوم کا ترکہ اڑتالیس (48) حصوں میں تقسیم ہو کربیوہ (آمنہ بی بی) کو12/48 حصے، بھائی (جلادخان)کو14/48حصے،اور دو بہنوں(فرمین بی بی اور نورجہان)میں سے ہر ایک کو7/48حصے ،جبکہ اخیافی بہن(رامبیل)کو 8/48حصےملیں گے۔
قال الله تعالى:﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ﴾ (النساء:12)
وقال: ﴿وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ﴾ (النساء: 12)
وقال: ﴿وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ (النساء:176)