بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا حکم
سوال
ایک شخص ضعیف العمر تھا اور کئی سالوں سے ایسی بیماری میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے وہ نہ نماز پڑھنے کے قابل تھا اور نہ ہی روزے رکھنے کی طاقت رکھتا تھا۔ یہ بیماری دو تین سال تک جاری رہی اور وہ اسی حالت میں فوت ہو گیا۔ اس دوران وہ نہ بیٹھ سکتا تھا، نہ اشارے سے نماز پڑھ سکتا تھا، اور نہ ہی روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ: کیا ایسی حالت میں اس کی چھوڑی ہوئی نمازوں اور روزوں کا فدیہ اس کے ورثاء پر دینا لازم ہے، جبکہ اس نے خود بھی ادائیگی نہیں کی اور نہ ہی وصیت کی تھی؟
جواب
واضح رہے کہ بیماری کے دوران بھی مریض کو جس طرح ممکن ہو نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام ضروری ہے۔ کھڑے ہو کر، بیٹھ کریا لیٹ کر اشارے سے نماز ادا کرےگا۔ اگر نماز رہ جائے تو اس کی قضا لازم ہوگی۔ البتہ اگر کسی مریض کی حالت ایک دن/رات سے زیادہ ایسی رہی کہ وہ سر کے اشارے سے بھی نماز ادا کرنے کے قابل نہ تھاتو جب تک یہی کیفیت رہے گی، ان دنوں کی نمازیں اس سے ساقط ہوں گی۔چنانچہ اگر وہ مریض اسی حالت میں انتقال کر جائے تو ان دنوں کی نمازوں کا فدیہ دینے کی بھی ضرورت نہیں۔نیزاگر کوئی شخص بیماری سے عاجز ہوکر روزہ نہ رکھ سکتا ہو اور مرنے سے پہلے اس کو صحت یابی کی امید بھی نہ ہوتو اس کو ایسی حالت میں زندگی میں فدیہ دینا ہوگا ،ورنہ فدیہ کی وصیت کرے گا۔ لہذا مرنے کے بعد اس کی وصیت کے مطابق ا س کے ترکہ کی تہائی سے اس کے روزوں کا فدیہ ادا کرنا ضروری ہوگا،لیکن اگر اس نے وصیت نہ کی ہو اور عاقل بالغ ورثاء اپنی خوشی سےمرحوم کی طرف سے فدیہ ادا کردیں تو یہ بھی جائز ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئلہ کے مطابق جس شخص سےبیماری میں نمازیں فوت ہو چکی ہیں ، تو اگر وہ اس دوران اشارے کے ساتھ بھی نماز پڑھنے پر قادر نہ تھا، تو ایسی صورت میں فدیہ لازم نہیں۔البتہ اس نے جو روزے نہیں رکھےان کا فدیہ اس پر لازم تھا،اگر اس نے زندگی میں فدیہ ادا نہیں کیا اور وصیت بھی نہیں کی تو اب ورثاپر اس کے روزوں کا فدیہ دینا لازم نہیں ،البتہ اگر اپنی خوشی سے دینا چاہیں تودے سکتے ہیں ۔
"(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة.(قوله:وعليه صلوات فائتة إلخ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بها، وإلا فلا يلزمه وإن قلت، بأن كانت دون ست صلوات، لقوله عليه الصلاة والسلام: «فإن لم يستطع فالله أحق بقبول العذر منه». وكذا حكم الصوم في رمضان إن أفطر فيه المسافر والمريض وماتا قبل الإقامة والصحة، وتمامه في الإمداد. مطلب في إسقاط الصلاة عن الميت.(قوله: يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك؛ لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك، إمداد.
ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعاً؛ لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات: إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة؛ لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطاً؛ لاحتمال كون النص فيه معلولاً بالعجز، فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولاً تكون الفدية براً مبتدأً يصلح ماحياً للسيئات، فكان فيها شبهة، كما إذا لم يوص بفدية الصوم، فلذا جزم محمد بالأول ولم يجزم بالأخيرين، فعلم أنه إذا لم يوص بفدية الصلاة فالشبهة أقوى".(ردالمحتار علی الدرالمختار،باب قضاءالفوائت،ج:2،ص:72)