بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جس ہوٹل میں شراب کے برتن دھونے پڑتے ہوں اس میں نوکری کرنا


سوال

بیرون ملک ہوٹل کی ڈیوٹی میں شراب نوشی والے گلاس وغیرہ دھونے پڑتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب مسلمان غیرمسلم ممالک میں ملازمت کر رہے ہوں تو مجبوراً انہیں‌ ایسے کام بھی کرنے پڑتے ہیں جو مشتبہ، مکروہ اور ناپسندیدہ ہوں۔ اس سے حتی الوسع بچنا چاہیےالبتہ اگر مجبوری ہو توایسے کام کرنے کی گنجائش ہے۔

صورتِ مسئولہ میں سائل کوچاہیے کہ مالک سے بات کرکے مذکورہ  کام سے جان چھرائےاور اگر مالک اس کےلئے تیار نہ ہو تو اپنے لیے کوئی  اورحلال ملازمت دیکھے،جب کوئی اور ملازمت مل جائے تو پھر اس ہوٹل میں کام چھوڑ کر اس   ملازمت  کواختیار کرے۔البتہ جب تک کوئی اور ملازمت نہیں ملتی تو اس کا م کےکرنے کی شرعاگنجائش ہے ۔

 

وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح بخلاف الاستئجار لكتابة الغناء والنوح أنه جائز؛ لأن الممنوع عنه نفس الغناء، والنوح لا كتابتهما.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،کتاب الإجارة،فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة،ج: 4،ص:189 )


فتویٰ نمبر : 3973/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور