بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
دُبئ میں مقیم پاکستانی کےنابالغ بچوں کےفطرانےکاحکم
سوال
ایک شخص دُبئ میں کام کرتا ہے اور پیسے سارے اپنے والد کو بھجواتا ہے۔اب اس شخص کے نابالغ پاکستانی بچوں کا صدقہ فطر ان کا دادا جو پاکستان میں ہے پاکستانی رقم کے حساب سے اداکرے تو کیا یہ درست ہوگا یا دُبئ کے لحاظ سے ہی ادائیگی لازم ہوگی؟
جواب
شرعی نقطہ نظرسےہرصاحبِ نصاب شخص پراپناصدقہ فطراوراپنےنابالغ بچوں کاصدقہ فطراداکرنالازم ہےصدقہ فطرکی مقدارپونےدوکلوگندم یاساڑھےتین کلو کھجوریاجویاکشمش ہے،چاہےکہیں بھی اداکیاجائےتواداہو جائےگا۔اوراگران اشیاء کی قیمت ادا کرنی ہوتوجہاں ادائیگی کرنے والاموجودہو وہاں کی قیمت معتبر ہوگی۔
صورتِ مسئولہ کےمطابق اگردُبئ میں مقیم پاکستانی نےعیدالفطروہیں گزارنی ہوتوایساشخص اگر صاحب نصاب ہو تواپناصدقہ فطراوراپنےنابالغ بچوں کاصدقہ فطردُبئ کی قیمت کےحساب سےاداکرےگا۔
والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال،وفي الوصية مكان الموصي، وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد، وهو الأصح، لأن رؤوسهم تبع لرأسه.(قوله: مكان المؤدي)أي لامكان الرأس الذي يؤدي عنه(قوله: وهو الأصح)بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية كما في الشرنبلالية وهو المذهب كما في البحر فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدى عنه.قال الرحمتي:وقال في المنح في آخر باب صدقة الفطر: الأفضل أن يؤدي عن عبيده وأولاده وحشمه حيث هم عند أبي يوسف وعليه الفتوى وعند محمد حيث هو. تأمل.قلت:لكن في التتارخانية يؤدى عنهم حيث هو وعليه الفتوى وهو قول محمد ومثله قول أبي حنيفة وهو الصحيح.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الزکاۃ،باب المصرف،ج:3،ص:307)