بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مرنے کے بعد ملنے والی پنشن کا حکم


سوال

 سرکاری ملازم کے مرنے کے بعد جو پنشن ملتی ہے ،وہ کس کو ملے گی؟اگر اولاد میں سے کسی ایک بیٹی کو (جو معذور بھی ہو)یہ پنشن منتقل ہوجائے تو وہ سارا اس کا حق ہوگا یا باقی اولاد کا  بھی اس میں حق ہو گا،نیز اگر یہ بیٹی پنشن کی اس رقم  میں سے بہن بھائیوں کو  اپنی طرف  کچھ حصہ  دے دیا کرے تو  کیا   دے سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ پنشن حکومت کی جانب سے سرکاری ملازم کے لیے ایک عطیہ ہوتا ہے، جو اس کی زندگی میں اسے ملتا رہتا ہے، اور اس کی وفات کے بعد قوانین کے مطابق یہ پنشن کسی وارث کے نام کر دی جاتی ہے۔ چونکہ یہ ایک عطیہ ہے، اس لیے اس میں میراث جاری نہیں ہوتی، کیونکہ میراث اس مال میں جاری ہوتی ہے جو وفات کے وقت میّت کی ملکیت میں موجود ہو۔ البتہ یہ پنشن جس وارث کے نام کر دی جائے، وہ اسی کی ملکیت بن جاتی ہے، اور پھر وہ جس جائز طریقے سے چاہے اسے خرچ کرسکتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں سرکاری ملازم کے مرنے کے بعد پنشن جس بیٹی کے نام منتقل ہوئی ہے، یہ اسی کا حق ہے، باقی بہن بھائی اس میں مطالبے کا حق نہیں رکھتے۔ البتہ اگر وہ اپنی مرضی سے کسی بھائی یا بہن کو  اس پنشن میں سے کچھ حصہ دینا چاہے تو دے سکتی ہے۔

 

العطاء لا یورث عنہ.(الأشباہ والنظائر،ج:2، ص:495)

الترکۃ في الاصطلاح ما ترکہ المیت من الأموال صافیا عن تعلق الغیر بعین من الأموال.(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الفرائض،ج:10، ص:493)


فتویٰ نمبر : 6540/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور