بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ایک عورت کی گواہی سے رضاعت کا ثبوت
سوال
زید کی جس لڑکی کے ساتھ منگنی ہوئی ہے،تو زید کی والدہ کہتی ہے کہ زید کو فلاں عورت یعنی(لڑکی کی دادی)نے بچپن میں دودھ پلایا تھا،جس سے زید اوور لڑکی کے والد رضاعی بھائی بنتے ہیں اور لڑکی زید کی رضاعی بھتیجی ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ عورت یعنی(دادی) نے کہا کہ میں یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہو کہ میں نے دودھ نہیں پلایا تھا،بلکہ قسم کے ساتھ شربت پلانے کا اعتراف کرتی ہو،تو اب نکاح کا کیا حکم ہے؟اور اگر عورت بھول گئی ہو یا غلط بیانی کرے تو نکاح و اولاد پر کیا اثر ہوگا؟
جواب
ثبوت رضاعت کے لیے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ ایک عورت کی گواہی معتبر نہیں، تاہم اگر اس کا قول موجب یقین واطمینان ہو، اور اس میں کذب بیانی کا احتمال نہ ہو تو عقد ِنکاح سے پہلے اس رشتہ سے احترازبہتر ہے،جب کہ بعد از نکاح ثبوتِ رضاعت کے لیے با قاعدہ گواہان کا ہونا ضروری ہے۔
صورت مسؤلہ میں اگر زید کی دادی دودھ پلانے سے منکرہو،اور گواہان بھی موجود نہ ہوں تو محض زید کی والدہ کے قول کا اعتبار نہیں اس لیے زید کا نکاح اس لڑکی سےجائز ہوگا۔ البتہ اگر اس کے دعویٰ پر سچ ہونے کاغالب گمان ہو رہا ہو تو پھر اس رشتے سے احترازکرنا چاہیے۔
لا تقبل في الرضاع شهادة النساء منفردات وإنما تثبت بشهادة رجلين أو رجل وامرأتين. (الھدایۃ ، کتاب الرضاع،ج:3،ص:450)
وقد قلنا: إنه إذا وقع في القلب صدقها يستحب التنزه ولو بعد النكاح. (فتح القدير للكمال بن الهمام،ج:3، ص:461 )