بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حقیقی والد کی بجائے گود لینے والے کی طرف نسبت کرنا


سوال

ایک خاتون کو پیدائش کے وقت گود پر دے دیا گیا تھا، اس کے حقیقی والدین اور گود لینے والے کا آپس میں کوئی رشتہ داری بھی نہ تھی، حقیقی والدین کفالت نہیں کرسکتے تھے اس لیے گود لینے والوں نے کاغذات وغیرہ میں اپنی ولدیت درج کروادی، جو آج تک اس طرح برقرار ہے۔ اب جبکہ اس خاتون کی عمر تقریباً 50 سال ہوچکی ہے، انہیں جب صحیح البخاری کی حدیث (حدیث نمبر:4326) "‌من ‌ادعى ‌إلى ‌غير ‌أبيه، وهو يعلم، فالجنة عليه حرام" کا علم ہوا، تو وہ سخت پریشانی میں مبتلا ہوگئی، اب خاتون عدالت میں دعوٰی دائر کرکے ولدیت کی درستگی بھی کروانا چاہتی ہے، لہٰذا مہربانی فرما کر اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں کہ کیاان کے لیے موجودہ کاغذات میں  گود لینے والی کی ولدیت ہی برقرار رہے یافوری طور پر ولدیت درست کرکے حقیقی ولدیت درج کروانا لازم ہے؟  

جواب

کسی کے بچے یا بچی کو اس کی اجازت سے گود لے کر پالنا شرعاً جائزہے، اور گود میں لینے والے کوبچے کی پرورش، تعلیم وتربیت اور اسے ادب واخلاق سکھانے پر اجر وثواب ملتا ہے، البتہ گود لیے گئے بچے کا نسب صرف اس کے حقیقی والد سے ہی ثابت ہوگا، گود لینے والے یا اس کے علاوہ کسی اور شخص کی طرف اسے منسوب کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ حدیث شریف میں ایسے شخص کے بارے میں جنت حرام ہونے کی وعید آئی ہے۔ اسی طرح نسب، پردہ، نکاح اور وراثت کے احکام میں گود لیا ہوا بچہ حقیقی بیٹے یا بیٹی کے حکم میں نہیں ہوگا، بلکہ ان معاملات میں وہ اجنبی شمار ہوتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں چونکہ شروع میں مذکورہ خاتون کے کاغذات وغیرہ میں گود لینے والوں نے اپنی ولدیت درج کروادی تھی، اوراس اندراج میں اس کا کوئی عمل دخل یا رضامندی شامل نہ تھی، اس لیے عنداللہ وہ معذور ہے۔ اور اب جبکہ اسے حقیقت کا علم ہوچکا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی تمام سرکاری وغیر سرکاری کاغذات میں گود لینے والے کی ولدیت ختم کرکے حقیقی والد کا نام درج کرنے کے لیے اپنی وسعت کی حد تک کوشش کرے، تاکہ کہیں حدیث شریف میں مذکور وعید میں داخل نہ ہو، تاہم اگروہ حسب استطاعت کوشش کے باوجود تبدیلی نہ کرواسکی تو امید ہے کہ عنداللہ معذور سمجھی جائے گی۔

 

قال الله تعالى: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ (البقرة:286)

وقال تعالى: ﴿وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (5)﴾ (سورة الأحزاب:4-5)

عن سعد رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (‌من ‌ادعى ‌إلى ‌غير ‌أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام). فذكرته لأبي بكرة فقال: وأنا سمعته أذناي ووعاه قلبي من رسول الله صلى الله عليه وسلم. (صحيح البخاري، كتاب الفرائض، باب من ادعى إلى غير أبيه، رقم الحديث:6385، ج:6، ص:2485)

(وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (لا ترغبوا) : أي: لا تعرضوا (عن آبائكم) : أي: ‌عن ‌الانتماء ‌إليهم (‌فمن ‌رغب ‌عن ‌أبيه): أي: وانتسب إلى غيره (فقد كفر) : أي قارب الكفر، أو يخشى عليه الكفر. في النهاية: الدعوة بالكسر في النسب، وهو أن ينتسب الإنسان إلى غير أبيه وعشيرته، وكانوا يفعلونه فنهوا عنه، والادعاء إلى غير الأب مع العلم به حرام، فمن اعتقد إباحته كفر لمخالفة الإجماع، ومن لم يعتقد إباحته فمعنى (كفر) : وجهان، أحدهما: أنه أشبه فعله فعل الكفار، والثاني: أنه كافر نعمة الإسلام. قال الطيبي: ومعنى قوله: فالجنة عليه حرام على الأول ظاهر، وعلى الثاني تغليظ. (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب اللعان، ج:5، ص:2170)


فتویٰ نمبر : 7312/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور