بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کسی ہسپتال کےلیے انشورنس کاڈیٹا تیارکرنااور اس کا معاوضہ لینا


سوال

امریکہ میں علاج کا نظام انشورنس کے تحت چلتا ہے، یعنی جو ڈاکٹر یا ہسپتال مریض کا علاج معالجہ کرتا ہے، اس کو معاوضہ کا کچھ حصہ مریض خود اور کچھ انشورنس کمپنی ادا کرتی ہے(کبھی مکمل معاوضہ انشورنس کمپنی ادا کرتی ہے) اب امریکہ کے ڈاکٹر، یا ہسپتال پاکستان میں میڈیکل بلنگ کمپنی، یا کسی ایک فرد کو اس بات کے پیسے دیتے ہیں کہ وہ وہاں کے مریضوں کا ڈیٹا اور رپورٹ تیار کرکے انشورنس کمپنی کو بھیج کر دعوی دائر کرتا ہے کہ جو سروس اور علاج معالجہ ڈاکٹر نے ،یا ہسپتال  نے مہیا کیا ہے اس کا معاوضہ انشورنس کمپنی اس ڈاکٹر، یا ہسپتال کو ادا کرے۔اصل میں ان مریضوں کا ڈیٹا تیار کرکے کمپنی کو بھیجنا یہ ڈاکٹر، یا ہسپتال کی ذمہ داری ہے، لیکن وہ اس کام کے لیے پاکستان میں کسی فرد کو رکھ لیتے ہیں جو یہ کام کرتا ہے۔اس پاکستانی آدمی کو جو یہ کام کرتا ہے کبھی رقم ڈاکٹر کی طرف سے ملتی ہے، اور کبھی انشورنس کمپنی ہی کی طرف سے ملتی ہے ، کیا یہ ملازمت جائز ہے، اور جو تنخواہ ہے وہ حلال ہے کہ نہیں۔ دونوں صورتوں میں براہ کرم تفصیل سے  جواب دیں۔اس میں ڈاکٹر کو پیسہ انشورنس کمپنی سے دلوانا یہ اس میڈیکل بلر کی ذمہ داری ہوتی ہے، جو پاکستان میں بیٹھ کر یہ کام کرتا ہے۔

جواب

کسی اِدارے یاکمپنی میں ملازمت کے جائز یا ناجائز ہونے کا مدار اِس بات پر ہے کہ وہ کمپنی اپنے ملازم سے کیا کام لیتی ہے اور اِس ادارے کے اغراض و مقاصد کیا ہیں۔ اگر وہ اپنے ملازم سے خلافِ شریعت کام کرواتی ہو یا اِس کے مقاصد و اہداف غیر شرعی ہوں تو ایسے اِدارے میں ملازمت جائز نہیں ، البتہ اگر ملازم سے کوئی خلافِ شریعت کام نہیں لیا جاتا اور مقاصد بھی غیر شرعی نہ ہوں تو ایسے اِدارے میں ملازمت کرنا جائز ہے۔

جمہور علمائے امت کے نزدیک مروجہ انشورنس کمپنیوں کی پالیسی سود، قمار اور غرر جیسے ناجائز عناصر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام اور ناجائز ہے۔ اس لیے ان کمپنیوں کے ساتھ نوکری کرنا جائز نہیں ۔البتہ  صورت مسئولہ کے مطابق اگر ڈاکٹرکچھ مریضوں کا علاج  کرے اور ان کا معاوضہ انشورنس کمپنی ادا کرتی ہو، تو اس  کے لیے دستاویزات تیار کرنا بذات خود کوئی ناجائز کام نہیں اس لیے اگرکوئی شخص بطور ملازم یہ دستاویزات تیارکرتاہو اور اس کا معاوضہ ڈاکٹر ادا کرتا ہو تو یہ معاوضہ لینا جائز ہوگا لیکن اگر انشورنس کمپنی  یہ معاوضہ  ادا کرتی ہو تو پھر اس کا لینا جائز نہ ہوگا کیونکہ پھر ملازم اُن کا ملازم شمار ہوگا ۔

 

عن جابر قال:لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا،و مؤكله،و كاتبه،وشاهديه وقال هم سواء۔(الصحيح لمسلم،كتاب المساقاة،باب الربا،ج:2،ص:27)

(الأجيرالخاص يستحق الأجرة إذاكان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولايشرط عمله بالفعل)غيرأنه يشترط أن يتمكن من العمل فلو سلم نفسه ولم يتمكن منه لعذركالمطروالمرض فلاأجرله(ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذاامتنع لايستحق الأجرة.)(شرح المجله لسليم رستم، ج:1، ص:239،رقم المادة:425)

(ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهي)؛لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجرة من غير أن يستحق عليه؛ لأن المبادلة لا تكون إلا عند الاستحقاق وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه"(البحرالرائق شرح کنزالدقائق،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج:8،ص:34)


فتویٰ نمبر : 3970/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور