بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
BRکی شرعی حیثیت
سوال
ماركیٹنگ کی غرض سے ایک کمپنی کی طرف سے BRکیا جاتا ہے BR کا مطلب یہ ہے کہ کسی معروف شخصیت کو اپنے سٹور پر بلو ا کر جوتا وغیرہ پہننے کا کہا جاتا ہے او ر اس میں اس کی تصویر کھینچ کرپھر اس کی تشہیر کمپنی خود کرتی ہے۔ جس شخص سے BR کروایاجاتا ہے اس شخص کو BR کا باقاعدہ معاوضہ دیا جاتا ہےاور وہ جو جوتے پہنتا ہے اس کی پیمنٹ اس سے وصول کی جاتی ہے، البتہ کبھی کبھار جوتا بلا معاوضہ بھی دے دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ BR کا باقاعدہ معاوضہ طے کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ مصنوعات کی تشہیر کرنے میں جھوٹ، دھوکہ اور غلط بیانی سے کام لینا، یا جاندار کی تصویر کے ذریعے تشہیر کرنا، یا تشہیر میں میوزک وغیرہ کا استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں۔ تاہم اگر مذکورہ چیزوں سے اجتناب کرتے ہوئے کسی پروڈکٹ کی تشہیر کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق، جب مارکیٹنگ کی غرض سے کوئی کمپنی کسی معروف شخصیت کو بلا کر اس سے اپنی مصنوعات کی تشہیر کرواتی ہے تو یہ دراصل عقدِ اجارہ ہے، جو کسی متعین عوض کے مقابلے میں کسی معلوم منفعت کا معاملہ ہوتا ہے۔ لہٰذا جس شخص کو کمپنی بلا کر اس کی تصویر اپنے پروڈکٹس کے ساتھ لے لیتی ہے اور پھر اس کی تشہیر کمپنی خود کرتی ہے، تو اس میں چونکہ وہ شخص صرف اپنی تصویر کھنچوانے کا معاوضہ لیتا ہے اس لیے یہ جائز نہیں۔ البتہ اگر وہ شخص اس پروڈکٹ کی تشہیر اپنے اکاؤنٹ سے کرے، اور پھر اس کا معاوضہ لے تو وہ شرعاً جائز ہوگا۔
"الإجارة: عقد يرد على المنافع بعوض" (الهداية،کتاب الإجارات ،ج:3،ص295)
الأمور بمقاصدها يعني أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر"(شرح المجلة لخالد الأتاسي ، المقالة الثانية في القواعد الفقهية، المادۃ:2،ج:1،ص:13)
(ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهي)؛لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجرة من غير أن يستحق عليه؛ لأن المبادلة لا تكون إلا عند الاستحقاق وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه"(البحرالرائق شرح کنزالدقائق،کتاب الإجارۃ،باب الإجارۃ الفاسدۃ،ج:8،ص:34)
وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط.(الفتاوي الهندية،الفصل الرابع في فساد الإجارة،ج:4،ص:450)