بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
اولاد کے درمیان زندگی میں جائیداد کی تقسیم
سوال
ميں نے 20 سال پہلے 26 مرلہ مکان 20 لاکھ روپے میں خرید کر اپنے 4 بیٹوں میں ہبہ کے طور پر برابر تقسیم کیا ، اب مجھے یہاں علما کرام سے معلوم ہوا کہ آپ نے چونکہ بیٹوں کو اتنا دیا ہے اب بیٹیوں کو بھی اتنا دینا ہوگا کیونکہ اولاد کے درمیان اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کے لیے مساوات ضروری ہے ۔ میری سات بیٹیاں ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ ان بیٹیوں کو 20 سال پہلی والی رقم دینی ہوگی یا موجودہ وقت کے حساب سے؟
جواب
واضح رہے کہ والد اگر زندگی میں اپنے مال وجائیداد کو اولاد کے درمیان تقسیم کر کے اس کو حوالہ کر دے تو یہ اس کی طرف سے ہبہ شمار ہوگا اوراس میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ بیٹا ہو یا بیٹی ہو سب کو برابر دے تاہم بیٹے کو بیٹی کا دگنا دینا بھی جائز ہے اس طرح والدین کو یہ بھی اختیار ہے کہ معقول ومعتبر سبب کی بنا پر کسی کے ساتھ ترجیحی سلوک کریں یعنی وہ اگر کسی اولاد کو کسی معقول وجہ سے زیادہ حصہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں نیز اگر والدین کسی کو جائیداد سے محروم کریں تو قضاءاً یہ نافذ ہوگا البتہ اس سے وہ گناہ گار ہوں گے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے 20 سال پہلے 26مرلہ مکان 20 لاکھ روپے میں خرید کر اپنے 4 بیٹوں میں ہبہ کے طور پر برابر تقسیم کیا تھا تو اس کو چاہیئے کہ اگر وسعت ہو تو بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو بھی اتنا حصہ دےجتنا حصہ ہر بیٹے کو دیا تھا اور اگر ا س کی وسعت نہ ہو تو جو وسعت ہو اس کے مطابق بیٹیوں کو کچھ نہ کچھ ہبہ کر دینا چاہیئے۔
عن النعمان بن بشير أنه قال: إن أباه أتى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكل ولدك نحلته مثل هذا؟ فقال: لا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فارجعه. )صحيح مسلم، ج:2، ص:36)
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم. وقال ابن عابدين تحته: قوله: (وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رملي. (رد المحتار على الدر المختار شرح تنوير الأبصار، ج:8 ص:501)