بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
گھر یا زمین میں شرکتِ متناقصہ
سوال
اگرکوئی غیر سودی ادارہ کسی شحص کےساتھ اس طرح معاملہ کرےکہ اس سے اس کا گھرخرید کرپھراسی شخص کووہ گھراجارہ (کرایہ) پرواپس دیتا ہے، اس شرط کے ساتھ کہ: 1. وہ شخص ماہانہ اس کا کرایہ اداکرےگا، 2. اورماہانہ اس گھر کے حصوں میں سے ایک حصہ بھی خریدےگایہاں تک کہ مکمل گھرکا مالک بن جائے،تو کیا اس طرح کی صورت شرعا جائز ہے؟ اورکیا اس میں بیع و اجارہ کا امتزاج یا سود کی مشابہت تو نہیں پائی جاتی؟
جواب
شرکت متناقصہ کی صورت یہ ہے کہ کوئی سرمایہ کار(چاہے شخص ہویا غیرسودی ادارہ)کسی کسٹمرکےساتھ مل کردونوں کوئی گھریازمین خریدلیں اوراس کی ملکیت میں شریک ہوجائیں یاسرمایہ کارکسی کسٹمرکی پہلے سے موجود ملکیت میں کسی حصے مثلا:نصف،تہائی یا چوتھائی وغیرہ کوخرید کرشریک ِملک ہوجائے،اس کےبعدادارہ اپناحصہ کسٹمرکو متعین ماہانہ یاسالانہ کرایہ کےعوض اجارہ پردے،اس کےساتھ ہی سرمایہ کاراپنے حصےکی اکائیاں بناکرکسٹمر پریہ اکائیاں یکے بعد دیگرےمتعین رقم کے عوض وقفے وقفے سے فروخت کرتارہےاوریوں سرمایہ کارکاحصہ رفتہ رفتہ گھٹتارہےاورکسٹمرکاحصہ بڑھتا رہےیہاں تک کہ سرمایہ کارکاحصہ مکمل ختم ہوکروہ سب کسٹمرکی ملکیت میں منتقل ہوجائے۔
یوں شرکت متناقصہ میں یکے بعددیگرےتین عقود ہوتے ہیں؛ 1:ملکیت میں شرکت 2:سرمایہ کارکااپناحصہ دوسرے شریک کواجارے پردینا 3:کسٹمرکاسرمایہ کارکےحصے کی اکائیاں رفتہ رفتہ خریدنا، اس طرح عقود کرنا شرعاجائز ہےبشرط یکہ اس میں ہرعقد کو دوسرے سے الگ رکھا جائےکوئی عقد دوسرے کے ساتھ مشروط نہ ہوالبتہ پہلے سے اس طرح کےعقود کرنے کی باہمی مفاہمت کرنا جائز ہے۔
درج بالاطریقے کے مطابق شرکت متناقصہ اگر چہ فقہی لحاظ سے ایک مشروع معاملہ ہے اورمبینہ اسلامی بینکاری میں سرمایہ کاری کا ایک جائز طریقہ ہے لیکن یہ عقد ان اداروں کے ساتھ کرناچاہئےجوکہ حقیقت میں شرعی قواعدوضوابط کے موافق یہ عقد پایۂ تکمیل تک پہنچاتے ہوں اور وہ اپنے تمام عقود بااعتماد وتجربہ کارعلماءکرام پرمشتمل شرعی بورڈاورشریعہ ایڈوائزرکی نگرانی میں طے کرتے ہوں چنانچہ مارکیٹ میں بعض سودی ادارے بھی شرکت متناقصہ یادیگراسلامی سرمایہ کاری کا نام لیتےہیں تاکہ لوگوں کواپنی طرف اسلام کے نام پرراغب کریں لیکن حقیقت میں ان کےعقود شریعت کے اصول وضوابط پرپورا نہیں اترتے،بلکہ سود یا قمارپر مبنی ہوتے ہیں ایسی صورت میں صرف نام کی وجہ سے ایسے اداروں کےساتھ معاملات کرنا جائزنہیں ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرکوئی غیرسودی ادارہ واقعتاً اس طرح کاعقد کرتا ہوکہ ایک شخص کے گھریا زمین کے کسی حصےکوخرید کرشریک ِملک ہوجاتا ہےاور پھراپناحصہ اس کو کرایہ پردےکرکرایہ وصول کرتا ہےاورہرماہ ایک ایک اکائی بھی اس پرفروخت کرتاہےاوراس سے اس کے بقدر قیمت وصول کرتا ہے یہاں تک کہ سارا گھراس کی ملکیت میں منتقل ہوجائےتوایسا معاملہ اس ادارےکےساتھ کرناجائز ہےجوکہ یہ معاملہ شریعت کےتمام شرائط وضوابط کی پابندی کےساتھ کرتاہواوراس ادارے کے تمام معاملات معتبرومستندعلماءِکرام کی نگرانی میں طے ہوتے ہوں۔
وتفسد – أي الإجارة – أيضا بالشيوع.....،إلا إذا آجر كل نصيبه أو بعضه من شريكه، فيجوز، وجوازه بكل حال.( الدّر المختار شرح تنوير الأبصار، باب الإجارةالفاسدة، ص:579)
ولو باع أحد الشريكين في البناء حصته لأجنبي لا يجوز، ولشريكه جاز.( ردّ المحتارمع الدّرالمختار، كتاب الشركة، ج:4، ص:300)
الشركة المتناقصة: والطريق الثاني للتمويل العقاري يبتنى على أساس الشركة المتناقصة. وإن هذا الطريق يتلخص في نقاط تالية:
إن الممول والعميل يشتريان البيت على أساس شركة الملك، فيكون البيت مشاعا بينهما بنسبة حصة الثمن التي دفعها كل واحد منهما.....،فظهر بهذا أن هذه العقود الثلاثة من المشاركة في الملك، والإجارة، والبيع، كل واحد منها صحيح في حد ذاته، فإن وقعت هذه العقود من غير أن يشترط أحدها في الآخر، بل يعقد كل منها مستقلا، فلا غبار على جوازها.....،محظور الصفقة في صفقة – إنما يلزم إذا كان العقد الواحد مشروطا بالعقد الآخر في صلب العقد، أما إذا وقعت هناك مواعدة بين الفريقين، بأنهما يعقدان الإجارة في الوقت الفلاني، والبيع في الوقت الفلاني، وانعقد كل عقد في وقته مطلقا من أي شرط، فالظاهر أنه لا يلزم منه الصفقة في الصفقة وقد صرح به الفقهاء في عدة مسائل).مجلة مجمع الفقه الإسلامي، الطرق المشروعة للتمويل العقاري، ج:6، ص:60)