بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
ندی کے پانی سے سیراب شدہ زمین میں عشر
سوال
جو کھیت ندی کے پانی سے سیراب ہوتاہے اس میں عشر کتنا ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ کھیتوں میں عشر اور نصفِ عشر کا دارومدار زمین کی آب پاشی کے نظام ،اورسیرابی کے دوران پیش آنے والی محنت اور مشکلات کی نوعیت پر ہے ۔ اگر کسی زمین کو بارش یا قدرتی چشموں کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہو،تو اس کی پیداوار میں دسواں حصہ یعنی عشر واجب ہوگا اور اگر کسی زمین کی سیرابی کے لیے پانی کومحنت کرکے یا قیمت دے کر حاصل کیا جاتا ہو ،جیسے: ڈول کے ذریعے کنویں سے پانی نکالنا ،رہٹ یا ٹیوب ویل کے ذریعے سے پانی حاصل کرنا ، یا ندی کا پانی جو زمین سے دور ہو اور زمین تک پہنچانے میں مشقت اٹھانی پڑتی ہو ،یا ان ندیوں کے پانی کا حکومت کو محصول دیا جاتا ہو ،تو ایسی زمین کی پیداوار میں بیسواں حصہ یعنی نصفِ عشر واجب ہوگا ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر ندی کا پانی زمین تک پہنچانے کے لیے نالہ وغیرہ بنانے میں محنت ومشقت اٹھانی پڑتی ہو یا اس پر مالی خرچہ آتا ہو ، تو اس کی پیداور میں بیسواں حصہ یعنی نصفِ عشر واجب ہوگا ،لیکن اگر ندی زمین کے قریب ہو اور ندی کا پانی زمین تک پہنچانے کے لیے نالہ وغیرہ بنانے میں کوئی مشقت نہ کرنی پڑے اور نہ ہی اس پر کوئی مالی بوجھ اٹھانا پڑے ،تو اس کی پیداور میں دسواں حصہ یعنی پورا عشر واجب ہوگا۔
(و)تجب في(مسقي سماء)أي مطر(وسيح)كنهر(و)يجب(نصفه في مسقي غرب)أي دلو كبير (ودالية)أي دولاب لكثرة المؤنة.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار،كتاب الزكوة،باب العشر،ج:3 ص:265)
وفي القاموس الدالية المنجنون والناعورة شيء يتخذ من خوص يشد في رأسه جذع طويل والمنجنون الدولاب يستقى عليه.(قوله: لكثرة المؤنة)علة لوجوب نصف العشر فيما ذكر(قوله: وقواعدنا لا تأباه)كذا نقله الباقاني في شرح الملتقى عن شيخه البهنسي؛لأن العلة في العدول عن العشر إلى نصفه في مستقى غرب ودالية هي زيادة الكلفة كما علمت وهي موجودة في شراء الماء ولعلهم لم يذكروا ذلك؛لأن المعتمد عندنا أن شراء الشرب لا يصح وقيل إن تعارفوه صح وهل يقال عدم شرائه يوجب عدم اعتباره أم لا تأمل نعم لو كان محرزا بإناء فإنه يملك فلو اشترى ماء بالقرب أو في حوض ينبغي أن يقال:بنصف العشر؛لأن كلفته ربما تزيد على السقي بغرب أو دالية".(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكوة،باب العشر،ج:2،ص:(328