بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عقیقہ میں بکرا یا بھیڑ کی جگہ قیمت دینا


سوال

کیا بچی کے عقیقہ میں بکرا یا بھیڑ ذبح کرنے کی بجائے اس کی قیمت یتیم یا بیوہ کو دی جا سکتی ہےیا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ بچے یا بچی کی پیدائش کے ساتویں روز، اگر والدین صاحبِ استطاعت ہوں تو لڑکے کے لیے دو بکرے یا دو بکریاں اور لڑکی کے لیے ایک بکرا یا بکری ذبح کرنا مستحب اور افضل عمل ہے۔عقیقہ کا یہی طریقہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔ جب کہ کسی یتیم یا بیوہ کو بکرے کی قیمت ادا کر دینا عقیقہ کے قائم مقام نہیں، اس سے عقیقہ کاثواب نہیں ملتا ۔

 

يستحب ‌لمن ‌ولد ‌له ‌ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الحظروالإباحة،ج:6،ص:336)


فتویٰ نمبر : 10787/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور