بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
قادیانیوں کا شعائر اسلام کو استعمال کرنا
سوال
مرزائی/ قادیانی حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے منکر ہونے کی بنا پر دائرہ اسلام سے خارج مرتد اور زندیق ہیں ۔؟ 1۔ تو کیا ان لوگوں کے لیے اسلامی شعائر اسلام استعمال کرنا جائز ہے، جبکہ آئین پاکستان تحت ان لوگوں پر اسلامی شعائر کواستعمال کرنے کی پابندی عائد کی جاچکی ہے؟2۔ قربانی جو سنت ابراہیم اور عظیم شعائر اسلام ہے، کیا مرزائیوں/ قادیانیوں کے لئے قربانی کرنا یا قربانی کے نام پر جانور ذبح کرنا جائزہے یا نہیں ؟3۔اگر کوئی قادیانی قربانی کرے اور مسلمان اس میں شریک ہو جائے تو مسلمان کی قربانی کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اکابر امت کی تصریحات سے یہ ثابت ہے کہ ایسا شخص شرعی اصطلاح میں زندیق کہلاتا ہےجو اسلام کا اظہار کرتا ہولیکن دعوی اسلام کے باوجود کفریہ عقائد رکھتا ہو،اور اپنے کفریہ عقائد کو تاویل باطل کے پردے میں چھپاتا ہواور کتاب وسنت کی نصوص کو توڑ مروڑ کر ان سے اپنا باطل عقیدہ کشید کرتا ہو،یا اسلام کے عقائد قطعیہ ویقینیہ پر طعن کرتا ہو،اور زندیق کی یہ تعریف قادیانیوں پر صادق آتی ہے،کہ وہ خالص کفریہ عقائد رکھتے ہیں،جن کا اسلام سے ذرا بھی تعلق نہیں ،اس کے باوجود وہ بڑی شد ّ ومد سے مسلمان ہونے کادعوی کرتے ہیں اورپوری ڈھٹائی اوربے حیائی کے ساتھ قرآن وسنت میں تحریف اور تاویل باطل کا ارتکاب کرتے ہیں اورمرزائیت کو اسلام اوردین محمدی کو کفر ثابت کرنے کی جسارت کرتے ہیں،نیز ’’شعائر‘‘ کالفظ ’’شعیرہ‘‘ یا ’’شعارہ‘‘ کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز کی وہ مخصوص علامت جس سے اس کی پہچان ہو، لہذا ’’شعائر اسلام‘‘ سے مراد اسلام کی وہ مخصوص علامات ہیں جن سے برملا دين کا اعلان اور اظہار ہوتا ہو اوروہ طاعتِ الٰہی خداوندی کی علامت اور پہچان بن گئے ہوں،جیسے: نماز، روزہ،حج ،زکاۃ،مناسک حج،آذان واقامت،جماعت،جمعہ،مسجد،مکہ مکرمہ،مدینہ منورہ،قربانی اورجہادوغیرہ۔ علامہ فخر الدین رازی رحمہ اللہ "تفسیر رازی" میں فرماتے ہیں کہ :
وأما شعائر الله فهي أعلام طاعته، وكل شيء جعل علما من أعلام طاعة الله فهو من شعائر/ الله. (تفسير الرازي، سورة البقرة: 2، آية: 158، ج: 4، ص: 135)،جبكہ حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : تمام مامورات اورمنہیات شعائر اللہ کہلاتے ہیں :
وقال عطاء بن أبي رباح: شعائر الله جميع ما أمر الله به ونهى عنه. (الجامع لأحكام القرآن، سورة المائدة (5): آية 2، ج: 6، ص: 37)اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ "حجۃ اللہ البالغہ"میں لکھتے ہیں کہ : شعائر سے وہ محسوس ظاہری امور مراد ہیں،جن کےذریعے اللہ تعالی کی عبادت کی جاتی ہے، جواللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں ،یہاں تک کہ ان کی تعظیم لوگوں کے ہاں اللہ کی تعظیم ہو اوران میں کوتاہی اللہ کی تعظیم میں کوتاہی ہو :
وأعني بالشعائر أمورا ظاهرة محسوسة جعلت ليعبد الله بها، واختصت به حتى صار تعظيمها عندهم تعظيما لله، والتفريط في جنبها تفريطا في جنب الله. (حجة الله البالغة، باب تعظيم شعائر الله، ج: 1، ص: 133)
الغرض،دين کےتمام قطعی احکام جن کے ثبوت پر امت کا اجماع ہو،وہ سب شعائر دین ہیں ،جو مسلمانوں کےساتھ خاص ہیں،اور مملکت اسلامیہ میں غیر مسلم کو ان کے استعمال کرنے اوراظہار کرنے کی اجازت نہیں ہے،نیز قربانی کے وجوب کےلیے ضروری ہے کہ قربانی کرنے والا مسلمان ہو،چنانچہ نہ کسی غیر مسلم پر قربانی واجب ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی قربانی قابل قبول ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرنا بھی سنت ابراہیمی اور امت محمدیہ کےعظیم الشان شعائر میں سےہے،اسی وجہ سے پاکستان کے قانون میں بھی قادیانیوں کوغیر مسلم قرار دے کر شعائر اسلام استعمال کرنے سے منع کردیا گیا ہے،لہذا ان کےلیے پاکستان میں رہتے ہوئے شعائر اسلام کے استعمال کرنے کی نہ شرعا اجازت ہے اورنہ قانونا اجازت ہے، نیز چونکہ شرعا ان کی قربانی کالعدم ہے لہذا اگر کوئی مسلمان شخص اس کےساتھ قربانی میں شرکت کرے تواس کی قربانی بھی کالعدم شمار ہوگی۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ أُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ ﴾ [التوبة: 17]
والعبادة إذا كانت كذلك لا تصح من كافر أصلي ولا مرتد؛ إذ نيتهما غير معتبرة. (كفاية النبيه في شرح التنبيه، كتاب الصيام، باب الاعتكاف، ج: 6، ص: 426)
وإن كان مع اعترافه بنبوة النبي صلى الله عليه وسلم وإظهاره شعائر الإسلام يبطن عقائد هي كفر بالإتفاق، خص باسم الزندیق... قوله: "المعروف" اهـ. فإن الزنديق يموه يكفره، ويروج عقيدته الفاسدة، ويخرجها في الصورة الصحيحة، وهذا معنى إبطان الكفر، فلا ينافي إظهاره الدعوى إلى الضلال، وكونه معروفاً بالإضلال اهـ. ابن كمال. (إكفار الملحدين في ضروريات الدين، تفسير الزندقة والإلحاد والباطنية وحكمها ثلاثتها واحد وهو الكفر، ص: 13)
(شعائر الشرع وأحكامه) ش: الشعائر مفعول أظهر. وهو جمع شعارة، وقال الأصمعي: جمع شعيرة، وإليه مال السراج، والأولى هو الأول؛ لأن الشعيرة واحدة الشعير الذي هو من الحبوب؛ والشعيرة أيضا: البدنة تهدى. والشعارة كل ما جعل علما لطاعة الله تعالى. قال الجوهري: الشعائر: أفعال الحج، وكل ما جعل علما لطاعة الله عز وجل. ويقال: المراد بها: ما كان أداؤه على سبيل الاشتهار، كأداء الصلاة بالجماعة، وصلاة الجمعية والعيدين، والأذان، وغير ذلك مما كان فيه اشتهار. (البناية شرح الهداية، مقدمة الكتاب، ج: 1، ص: 114)
ومنها [أي: من شرائط وجوب الأضحية:] الإسلام فلا تجب على الكافر. (الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، ج: 5، ص: 292)
فمنها الإسلام فلا تجب على الكافر لأنها قربة والكافر ليس من أهل القرب.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب التضحية، فصل في شرائط وجوب في الأضحية، ج: 5، ص: 63)