بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

"تو تو میرے لیے اللہ ہے "الفاظ کہنے کا حکم


سوال

ایک لڑکی کے نا محرم لڑکے کے ساتھ تعلقات تھے ،بعد میں لڑکے نے لڑکی سے تعلق ختم کرنے کا ارادہ کیا،وہ لڑکی اس لڑکے سے پیار کرتی تھی۔ لڑکی نے لڑکے کو کہا :کہ" تو تو میرے لیے اللہ ہے "مفتی صاحب اب لڑکی کے لئے کیا حکم ہے کیا اس بات پر لڑکی صرف گناہ گار ہوئی ہے یا دائرہ اسلام سے بھی خارج ہوئی ہے ؟برائے کرم رہنمائی فرمائيں۔          

جواب

اگر کسی مسلمان  سے ایسا کلام صادر ہو جائے جس میں کفر اور عدم کفر(اسلام سے خارج ہونے،اور نہ ہونے)دونوں  کا احتمال ہو ا،البتہ عدم کفر پر قرینہ موجود ہو تو احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی تکفیر نہ کی جائے ،گو کہ ایسے کلام سے اجتناب اور توبہ بہر حال لازم ہے۔لیکن اگر کلام ایسا ہو جس میں دائرہ اسلام سے نکلنے کا پہلو غالب ہو ،تو اس صورت  میں تجدید ایمان کا حکم کیا جائے گا۔ نیز کسی بندے کو اللہ تعالی کی ذات وصفات میں کسی طرح تشبیہ دینا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ میں اس جملہ کے اندر  کہ "توتو میرے لیے اللہ ہے"چونکہ لفظ"اللہ"کا استعما ل غیراللہ کے لیے ہوا ہےحالانکہ یہ اللہ سبحانہ وتعالی کا ذاتی نام ہے اور اس کے ساتھ خاص ہے،لہذااس کے کہنے والے پر توبہ اور تجدید ایمان لازم ہوگا۔

 

والذي يعتقد في هذا الباب أن الله جل اسمه في عظمته وكبريائه وملكوته وحسنى أسمائه وعلی صفاته، لا يشبه شيئا من مخلوقاته ولا يشبه به.(الجامع لأحكام القرآن للقرطبي،ج:8،ص:4)

واللہ علم لذات الواجب لم یطلق علی غیرہ. (فتح القدیرللشوکاني،ج:1،ص:21)

وفى الخلاصة وغيرها إذا كان فى المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم.(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الجهاد، باب المرتدين، مطلب: مايشك أنه ردة لايحكم بها، ج: 6، ص:358،)


فتویٰ نمبر : 6524/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور