بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پالے ہوئے جانوروں کے بچوں کی زکوٰۃ


سوال

جن جانوروں میں خریدتے وقت بیچنے کی نیت نہ ہو بلکہ ان کورکھنے اور ان کے بچوں کو بیچنے کی نیت ہو تو ان کے بچوں میں زکوۃ کا کیا حکم ہے؟ پس خلاصہ یہ ہوا کہ جن جانور کو خریدا ہے اس میں تجارت کی نیت نہیں،اور جن میں تجارت کی نیت ہے اسکو خریدا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مویشیوں میں زکوٰۃ اس وقت واجب ہوگی جب وہ سائمہ ہوں یعنی پورے سال یا سال کے اکثر حصے چراگاہوں یا کھلےمیدان میں چرتے ہوں اور اس کے پالنے سے مقصود دودھ کا حصول اور افزائش نسل ہو، البتہ ایسے جانور جو باربرداری یا نقل و حمل کےلئے رکھے جائیں یا جن کو ذبح کرکے گوشت اورغذا بنانا مقصود ہو ،ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ۔اسی طرح جو جانور افزائش نسل کی بجائے خرید و فروخت اور تجارت کی نیت سے خریدے ہوں توان میں تجارت کے حساب سے زکوۃ واجب ہوتی ہے۔

    صورت مسؤلہ کے مطابق جن جانوروں میں خریدتے وقت بیچنے اور تجارت کی نیت نہ ہو اوروہ سائمہ بھی نہ ہوں تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، اسی طرح بعد میں ان جانوروں کے بچے اگرپیدا ہوں اور ان میں بیچنے کی نیت کی جائے تو صرف اس نیت کی وجہ سے زکوٰۃ واجب نہ ہوگی جب تک فروخت نہ کیا ہوتو ان کی قیمت میں زکوٰۃ واجب نہیں ۔

 

الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول(الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الزكاۃ، ج:1، ص:95)

باب ‌السائمة (‌هي) ‌الراعية، وشرعا (المكتفية بالرعي) المباح، ذكره الشمني (في أكثر العام لقصد الدر والنسل) ذكره الزيلعي، وزاد في المحيط (والزيادة والسمن) ليعم الذكور فقط، لكن في البدائع: لو أسامها للحم فلا زكاة فيها، كما لو أسامها للحمل والركوب ولو للتجارة ففيها زكاة التجارة، ولعلهم تركوا ذلك لتصريحهم بالحكمين (فلو علفها نصفه لا تكون سائمة) فلا زكاة فيها . (( رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الزكاة، باب السائمة، ج:3، ص:196 )

(لا يبقى للتجارة ما) أي عبد مثلا (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لا يصير للتجارة) وإن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة. والفرق أن التجارة عمل فلا تتم بمجرد النية؛ بخلاف الأول فإنه ترك العمل فيتم بها.(رد المحتارعلى الدرالمختار، كتاب الزكاة، ج:3، ص:192)

‌‌‌فإن ‌كانت ‌للتجارة ‌فحكمها ‌حكم ‌العروض يعتبر أن تبلغ قيمتها نصابا سواء كانت سائمة أو علوفة.( الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، ج:1، ص:240 )


فتویٰ نمبر : 10801/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور