بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ثالث کی معزولی کے بعد دعویٰ میں تبدیلی کی شرعی حیثیت


سوال

دو فریقین کے درمیان ایک تنازعہ پیش آیا، جس کے حل کے لیے دونوں نے باہمی رضامندی سے ایک عالم دین کو بطورِ ثالث مقرر کیا۔ ثالث نے فریقین سے دعویٰ اور جوابِ دعویٰ وصول کرلیا، مگر فیصلہ صادر کرنے سے قبل ایک فریق نے ثالث کو معزول کردیا۔ بعد ازاں دونوں فریقین نے اتفاق رائے سے دوسرے عالم دین کو بطورِ ثالث مقرر کیا۔ نئے ثالث کے سامنے مدعی نے اپنے سابقہ دعویٰ میں تبدیلی کرکے ایک نیا دعویٰ پیش کیا۔ اس پر مدعی علیہ نے اعتراض کیا کہ مدعی کو نیا دعویٰ پیش کرنے کا حق حاصل نہیں، بلکہ وہی سابقہ دعویٰ پیش کیا جائے جو پہلے ثالث کے سامنے کیا گیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ: کیا شریعت کی رو سے پہلے ثالث کے معزول ہونے کے بعد مدعی کو اپنے دعویٰ میں تبدیلی یا ترمیم کرنے کی اجازت ہے؟ اور کیا نئے ثالث کے سامنے نیا دعویٰ پیش کیا جاسکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگرکسی تنازعہ کے فریقین اپنے اختلاف کا حل حکومت کی عدالت کی بجائے کسی شخص کے سامنے پیش کریں، اور اسے تنازعہ کے تصفیہ کا اختیار دے دیں، تو شرعاً یہ "تحکیم" کہلاتا ہے۔ تحکیم کے معاملے میں فیصلہ صادر ہونے سے پہلے فریقین میں سے ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مقرر کردہ حَکم(ثالث) کو معزول کردے۔ لہٰذا فیصلہ صادر ہونے سے پہلے اگر کوئی فریق حکم کو برطرف کرنا چاہے تو اسے ایسا کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ البتہ جب حکم فیصلہ صا درکردے، تو اس کے فیصلے پر عمل کرنا شرعاً لازم ہے۔ نیز دعوٰی اس قول کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے مدعی (دعوٰی کرنے والا) کسی غیر پراپنا حق مجلسِ قاضی یا محکم میں ثابت کرنے کی کوشش کرے، مدعی اپنے دعوٰی میں ایسی تبدیلی کرسکتا ہے جو اس کے سابقہ بیان کی تردید نہ کرے، مثلاً: دعوٰی کرے کہ یہ زمین میری ہے کیونکہ میں برسوں سے اسے کاشت کررہا ہوں، اور پھر قاضی یا حاکم کے سامنے کہے: کہ یہ زمین میری ہے کیونکہ یہ مجھے میرے والد سے وراثت میں ملی تھی، تو اس طرح تبدیلی تناقض نہیں ہے، بلکہ سابقہ بیان کی جزئی تفصیل ہے، لہٰذا دعوٰی میں اس طرح کی تبدیلی جائز اور قابلِ سماعت ہوگی۔ البتہ اگر مدعی قاضی کے سامنے اپنے بیان یا دعوٰی میں ایسی تبدیلی کرے جو اس کے پہلے دعوٰی کی تردید کرتی ہو، مثلاً: پہلے اس نے یہ کہا ہوکہ: "یہ مکان میرا ہے کیونکہ مجھے میرے باپ سے وراثت میں ملا ہے "، اورپھر قاضی کے سامنے  یہ کہے کہ: "یہ مکان میرا ہے کیونکہ میں نے خریدا ہے"، تو اس طرح تبدیلی دعوٰی میں تناقض ہوگی، اور تناقض دعوٰی کو باطل کردیتا ہے۔ نیز فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ اگر پہلا بیان قاضی کے سامنے نہ دیا گیا ہو بلکہ عام حالات یا کسی اور مجلس میں کہا گیا ہو اور پھر اس کے مناقض دعوٰی کہا جائے تب بھی یہ دعوٰی قابلِ تسلیم نہ ہوگا، البتہ یہ ضروری ہے کہ یہ دونوں اقوال ایک ہی شخص سے صادر ہوئے ہوں اور وہ اس تناقض کا معقول جواب نہ دے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ کے مطابق فیصلہ صادر ہونے سے پہلے کسی ایک فریق کا حکم(ثالث ) کو معزول کرنا درست ہے، نیز اگر مدعی دوسرے حکم کے سامنے بیان میں ایسی تبدیلی وترمیم کرے جو اس کے سابقہ دعوٰی (جو پہلے حکم کے سامنے تھا) کی نفی کرتی ہو یا اس کے ساتھ متناقض ہو، تو اس کا دعوٰی شرعاً باطل اور ناقابل ِ سماعت ہوگا۔ البتہ اگرمدعی نے کسی معقول اور قابلِ قبول عذرکی بنا پر دعوٰی میں تبدیلی کی ہو یا نئے بیان اور سابقہ دعویٰ میں تناقض نہ ہو، تو ایسی صورت میں شرعاً محض دعوٰی کی تبدیلی کی وجہ سے دعوٰی ناقابلِ سماع  نہ ہوگا۔

 

(قوله ‌ولكل ‌واحد ‌من ‌الحكمين ‌أن ‌يرجع ‌قبل ‌حكمه)؛ لأنه تقلد من جهتهما فكان لكل منهما عزله وهو من الأمور الجائزة فينفرد أحدهما بنقضه كالمضاربة والشركة والوكالة (قوله فإن حكم لزمهما) لصدوره عن ولاية شرعية فلا يبطل حكمه بعزلهما. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب القضاء، باب التحكيم، ج:7، ص:26)

(قوله ‌ولكل ‌واحد ‌من ‌المحكمين ‌أن ‌يرجع ‌ما ‌لم ‌يحكم ‌عليهما لأنه مقلد من جهتهما) إذ هما الموليان له فلهما عزله قبل أن يحكم كما أن للسلطان أن يعزل القاضي قبل أن يحكم ولو حكم قبل عزله نفذ وعزله بعد ذلك لا يبطله فكذا هذا (وإذا نفذ حكمه لزمهما لصدور حكمه عن ولاية كاملة عليهما). (فتح القدير، كتاب أدب القاضي، باب التحكيم، ج:7، ص:317)

(التناقض هو سبق كلام من المدعي مناقض لدعواه أي سبق كلام منه موجب لبطلان دعواه). التناقض لغة بمعنى التدافع فيقال: إن في كلام فلان تناقضا أي أن بعض كلامه يبطل كلامه الآخر. ومعناه شرعا هو سبق كلام من المدعي مناقض لدعواه. أي سبق كلام منه موجب لبطلان دعواه. وبتعبير آخر هو أن يتكلم المدعي قبلا في حضور القاضي كلاما منافيا لدعواه سواء كان كلامه الأول في حضور القاضي، والتناقض في هذه الصورة يكون تناقضا بين دعويين، أو كان في غير حضور القاضي. والتناقض في هذه الصورة هو تناقض بين الدعوى وبين غيرها.فلذلك إذا ادعى أحد في حضور القاضي دعوى أخرى مناقضة للدعوى التي أقامها أثناء فصل تلك الدعوى فيكون ذلك تناقضا منه.كذلك إذا ثبت للقاضي بأن المدعي قد تكلم كلاما في غير مجلس القاضي منافيا للدعوى التي أقامها أمامه فيكون ذلك تناقضا أيضا.إلا أنه يجب أن يكون الشخص الذي تكلم كلاما مناقضا لكلامه الآخر واحدا حقيقة، أو حكما كالوارث والمورث. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الكتاب الرابع عشر الدعوى، رقم المادة:1615، ج:4، ص:176)

(يعفى التناقض ‌إذا ‌ظهرت ‌معذرة ‌المدعي بأن كل محل خفاء مثلا إذا ادعى المستأجر على المؤجر بمد استئجار الدار بأنها ملكه وأن أباه كان قد اشتراها له في صغره وأنه لم يكن له خير بذلك عند الاستئجار وأبرز سندا على هذا الوجه تسمع دعواه كذلك لو استأجر أحد دارا ثم حصل له علم بأن تلك الدار هي منتقلة إليه إرثا عن أبيه وادعى بذلك تسمع دعواه).....ومحل الخفاء، هو خصوصيات النسب والطلاق والوصاية والولاية والتولية والإبراء والاشتراء مستورا ووجود المال المغصوب والإرث والوقف. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الكتاب الرابع عشر الدعوى، رقم المادة:1655، ج:4، ص:280)


فتویٰ نمبر : 6538/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور