بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سورہ واقعہ میں رکوع کی ترتیب


سوال

عام طورپررکوع کی تعریف یہ کی جاتی ہےکہ رکوع ایک ایسے مجموعےکانام ہےجو ہم معنی اورہم موضوع آیات پرمشتمل ہوتا ہے،اب پوچھنایہ ہےکہ سورہ واقعہ کا پہلا رکوع آیت نمبر 38پر ختم ہو جاتا ہےحالانکہ آیت نمبر40 پرختم ہوناچاہیےتھا۔

جواب

 قران مجیدمیں پارہ،ربع،نصف،ثلث یا رکوع کی جوعلامات مقررہیں،یہ کوئی توقیفی عمل نہیں،بلکہ مخصوص حالات کی روشنی میں مقررکی گئی ہیں۔زیادہ تر نماز میں قرأت میں ہم آہنگی یا آسانی کے لیے یہ علامات معرض وجود میں آئی ہیں،تا کہ قرآن کی تلاوت میں قاری یا نمازی کوسہولت اورآسانی رہے،یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات ایک ہی مضمون دوپاروں یامتعدد رکوع میں بکھراہوتاہے،اس سے یہ معلوم ہوتا ہےاگر کسی کودوسری صورت میں آسانی ہواوروہ اپنی ضرورت کے لیےرکوع کی رعایت نہ رکھے توکوئی حرج نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق یہ درست ہےکہ سورہ واقعہ میں آیات کامعنوی وموضوعی تسلسل آیت نمبر40 پرمکمل ہوتا ہے،چنا نچہ بعض نسخوں میں آیت نمبر40 پر ہی رکوع کی علامت موجود ہے۔

 

وحكي أن المشايخ - رحمهم الله تعالى-جعلوا القرآن على خمسمائة وأربعين ركوعا وأعلموا ذلك في المصاحف حتى يحصل الختم في ليلة السابع والعشرين وفي غيرهذا البلد كانت المصاحف معملة بعشر من الآيات وجعلوا ذلك ركوعاً ليقرأ في كل ركعة من التراويح القدر المسنون، كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الھندية کتاب الصلاۃ،فصل فی التراویح، ج:1،ص:177)


فتویٰ نمبر : 6533/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور