بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
بہنوں کو بعض ترکہ میں سےدینا اوربعض سے محروم کرنا
سوال
ہمارا باپ وفات پا چکاہے ان کے اموال میں سے گاؤں والا گھر اوربازار کی چند دکانیں ہیں ہمارے بھائیوں کا کہنا کہ بہنوں کا حق صرف گاؤں کے گھرمیں ہے، بازار کی دکانوں میں ان کاحق نہیں بنتا، کیا واقعی بہنوں کا حق صرف گاؤں والے گھرمیں ہوتاہے یا باپ کی سب جائیدادوں میں ؟نیز باپ کے وفات کے وقت ہم پانچ بہنیں اور دو بھائی زندہ موجود تھے، مرحوم کا ترکہ مذکورہ ورثاءمیں کس حساب سے تقسیم ہوگا؟
جواب
جاننا چا ہیے کہ جب کوئی فوت ہوجائے تواس کا جتنا مال اورجائیداد رہ جائے وہ سب ترکہ میں سے شمار ہوکر حقوق متقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد ورثاء کے درمیان قانونِ شرعی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر بازارکی دکانیں واقعی مورث کی ملکیت تھیں تو وہ مورث کے ترکہ میں سے شمارہو کر بیٹوں کی طرح بیٹیوں کو بھی اس میں حق ملے گا۔ بہنوں کے حق کو صرف گاؤں کے گھر تک محدود کرناشرعاً جائزنہیں۔
2۔مرحوم کا ترکہ مندرجہ بالاورثاء میں درج ذیل حساب سے تقسیم ہوگا کہ :
مـــــــــــــــــــ(مرحوم)ـــــــــــــ(9)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
2 2 1 1 1 1 1
بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ بالا ورثاء کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو،تو بعد از اداے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ نو(9)حصوں میں تقسیم ہو کر بیٹوں میں سے ہر ایک کو 2/9 حصے ،جبکہ بیٹوں میں سے ہرایک کو 1/9 حصہ ملے گا۔
قال الله تعالى: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [النساء: 11]