بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ٹی شرٹ پہن کر نماز پڑھنا
سوال
ٹی شرٹ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اگر مکروہ ہے تو اس پر سوال ہے کہ بہت سے صحابہ ایک چادر میں نماز پڑھا کرتے تھے جب کہ اس کو کوئی مکروہ نہیں کہتا؟
جواب
واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک چادر میں نماز تنگی کی وجہ سے پڑھا کرتے تھے، ان میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے نہیں ہوتے تھے، جس کی وجہ سے وہ ضرورتاً ایک کپڑے میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔ لہذا جب لباس کی فراوانی ہوگئی تو صحابہ و تابعین کا معمول ایک لباس میں نماز ادا کرنے کا نہیں تھا۔ پس ضرورت کی صورت میں کراہت باقی نہیں رہتی، کیوں کہ عام حالات اور ضرورت کے احکامات میں فرق ہوتا ہے۔
فقہاءِ کرام نے عام حالات میں آدھی آستین کی قمیص و شرٹ پہن کر نماز ادا کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، نیز نماز میں سلفِ صالحین کا معمول یہی تھا کہ وہ مکمل لباس میں نماز ادا کرتے تھے جس میں پوری آستین ہوتی تھی، اور اللہ تعالی کے دربار میں صلحاء کا لباس پہن کر حاضر ہونا پسندیدہ ہے۔ لہٰذا اگر شرٹ پہننا مجبوری ہو تو مکمل آستین والی شرٹ زیبِ تن کرنی چاہیے، تاہم اگر کسی وقت آدھی آستین کی شرٹ پہنے ہونے کی حالت میں نماز کا وقت ہوجائے، تو نماز ترک کرنا جائز نہیں، بلکہ اسی حالت میں نماز ادا کی جائے گی۔
عن أبي هريرة؛ أن سائلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة في الثواب الواحد؟ فقال "أو لكلكم ثوبان؟"۔ (صحيح مسلم، باب الصلاۃ فی ثوب واحد وصفۃ لبسہ، ج:1، ص:367، رقم الحدیث: 515)
عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أمرت أن أسجد على سبعة أعظم، ولا أكف ثوبا ولا شعرا. (صحيح مسلم، باب اعضاء السجود والنہی، ج:2، ص:52، رقم الحدیث:490)
"وتشميركميه عنهما" للنهي عنه لما فيه من الجفاء المنافي للخشوع. (مراقي الفلاح شرح نور الايضاح، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، فصل فی المكروهات، ج:1، ص:128)
ولو صلى رافعا كميه إلى المرفقين كره. كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية، کتاب الصلاۃ، الباب السابع في مايفسد الصلاة، ج:1، ص:106)