بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
قبر پر پھول اور عرق گلاب ڈالنا
سوال
میت کی تدفین کے بعد اس کی قبر پر پھول اور عرق گلاب ڈالناکیسا ہے،کیاایسا کرنا نبی کریم ﷺکے عمل سے ثابت ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ قبر وں پر پھول اور عرق گلاب وغیرہ ڈالنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین سے ثابت نہیں ہے، اس لیے قبر پر پھول ڈالنا درست نہیں ہے، بلکہ پھول کی بجائے یہ رقم صدقہ وخیرات کرکے میت کو ثواب پہنچايا جائے، یہ زیادہ بہتر ہے، تاکہ میت کو بھی فائدہ ہو اور رقم بھی ضائع نہ ہو۔
البتہ تدفین کے موقع پر قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد پانی چھڑکنا مستحب ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد اور اپنے صاحب زادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہما کی قبر پر پانی چھڑکا تھا اور حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر پر پانی چھڑکنے کا حکم فرمایا تھا۔ تاہم اس موقع پر بھی عرق گلاب کی جگہ عام پانی استعمال کرنا ہی چاہیے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا عمل منقول ہے۔
أنكر الخطابي ومن تبعه وضع الجريد اليابس، وكذلك ما يفعله أكثر الناس من وضع ما فيه رطوبة من الرياحين والبقول ونحوهما على القبور ليس بشيء۔(عمدة القاري شرح صحيح البخاري،کتاب الوضوء،باب ما جاء في غسل البول،ج:3،ص:121)
(ولا بأس برش الماء عليه)حفظًا لترابه عن الاندراس(قوله:ولا بأس برش الماء عليه)بل ينبغي أن يندب؛«لأنه صلى الله عليه وسلم فعله بقبرسعد»،كمارواه ابن ماجه،«وبقبر ولده إبراهيم»،كما رواه أبو داود في مراسيله،«وأمر به في قبر عثمان بن مظعون»،كمارواه البزار،فانتفى ما عن أبي يوسف من كراهته؛لأنه يشبه التطيين۔حلية۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الصلاة،باب الصلاة الجنائز،ج:2،ص:237)