بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
حدیث کے راوی کی تحقیق
سوال
آٹھویں جماعت کی درسی کتاب میں ایک حدیث مبارکہ ہے''حضرت عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس نے استطاعت کے باوجود حج نہ کیا تو اس کو اختیار ہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے''سنن ترمذی کا 812 کا حوالہ بھی درج ہے۔البتہ جب ہم نے اس حدیث کو دیگر کتب میں تلاش کی تو وہاں کسی دوسرے صحابی سے اس حدیث کی روایت منقول ہے۔اب امر مطلوب یہ ہے ۔(1)کہ اس حدیث کاا صل روای کون ہے۔(2)اگر درسی کتب میں راوی کی نسبت میں اختلاف ہو تو اس کی تصحیح کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ سوال میں مذکورحدیث مبارک ترمذی شریف میں منقول ہے جس کا ترجمہ یہ ہےکہ''جس نے استطاعت کے باوجود حج نہ کیا تو اس کو اختیار ہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے'' یہ حدیث مبارک جامع الترمذی میں ان الفاظ کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔تاہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اس مضمون کی حدیث موقوفاًمروی ہے لیکن وہ جامع الترمذی کی بجائے السنن الکبریٰ للبیہقی میں ہے۔ لہذا کتاب میں تصحیح کرکے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جگہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام لکھنا چاہیےاور یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سےمروی حدیث اور اس کا حوالہ تحریر کرنا چاہیے۔
عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"من ملك زادا وراحلة تبلغه إلى بيت الله ولم يحج فلا عليه أن يموت يهوديا، أو نصرانيا، وذلك أن الله يقول في كتابه:{ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا}.(سنن الترمذي،أبواب الحج،باب ماجاء في التغلظ في ترك الحج،رقم الحدیث:812،ج:3،ص:167)
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنه يقول:ليمت يهوديا أنصرانيا يقول ثلاث مرات رجل مات ولم يحج۔(السنن الكبرى للبيهقي،كتاب الحج،باب إمكان الحج،رقم الحديث:8661،ج:4،ص:546)