بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اہل مدینہ کے اہل حل وعقدحضرات
سوال
زید کہتاہے کہ "سیدنا عثمان رضی الله عنہ کی شہادت کے بعد اہل مدینہ "اہل حل و عقد" نہ رہے تھے اور ان کی یہ حیثیت ختم ہوگئی تھی" کیا زید کی مذکورہ بات کی وجہ سے حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی خلافت کے انعقاد کا انکار لازم آتا ہے ؟،کیونکہ جب بقول زید کے شہادت عثمان کے بعد اہل مدینہ "اہل حل و عقد" نہ رہے تھے(جن کی بیعت کی وجہ سے خلافت کا انعقاد ہوتا ہے) تو گویا جن حضرات نے حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی بیعت کی تھی ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی،برائے مہربانی اس حوالے سے راہنمائی فرمادیں کہ زید کی مذکورہ بالا بات سے حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی خلافت کا انکار لازم آتا ہے یا نہیں؟
جواب
جاننا چاہیے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اہلِ مدینہ میں سے بڑے بڑے صحابہ جیسے: حضرت علی ،حضرت طلحہ ،حضرت زبیر،حضرت ابوموسی اشعری اور عبداللہ بن عباس اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورتابعین رحمہم اللہ موجود تھے ۔ انہوں نے حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔اس لیے یہ کہنا کہ "اہل حل و عقد ختم ہوگئے تھے" تاریخی اور شرعی لحاظ سے درست نہیں، نیز علامہ ابن حجر الہیتمی فرماتے ہیں : کہ حضرت طلحہ ،زبیر،ابوموسی ،ابن عباس،خزیمہ بن ثابت،ابو ہیثم بن تیہان،محمد بن مسلمہ، اور عمار بن یاسررضی اللہ عنہم جیسے اہلِ حل وعقد کے اتفاق سے پہلے تین خلفاء کے بعد خلافت کے سب سے زیادہ حق دار امامِ مرتضیٰ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ٹھہرے۔
أن الحقيق بالخلافة بعد الأئمة الثلاثة هو الإمام المرتضى والولي المجتبى علي بن أبي طالب باتفاق أهل الحل والعقد عليه كطلحة والزبير وأبي موسى وابن عباس وخزيمة بن ثابت وأبي الهيثم بن التيهان ومحمد بن مسلمة وعمار بن ياسر.وفي شرح المقاصد عن بعض المتكلمين أن الإجماع انعقد على ذلك ووجه انعقاده في زمن الشورى على أنها له أو لعثمان وهذا إجماع على أنه لولا عثمان لكانت لعلي فحين خرج عثمان بقتله من البين علم أنها بقيت لعلي إجماعا.(الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة،ج:1،ص:349)