بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
جمعہ اورعیدین کی نماز کے بعد اجتماعی دعا کرنا
سوال
علماکو دیکھا جاتا ہے کہ وہ پانچ وقت کی نمازوں کے بعد بعض اوقات اجتماعی دعا چھوڑ دیتے ہیں، لیکن جمعہ یا عید کی نماز کے بعد اسے چھوڑتے ہوئے نظر نہیں آتےاور اگر کبھی اسے چھوڑ دیا جائے تو لوگ مختلف قسم کی تنقیدیں کرتے ہیں، تو اب سوال یہ ہے کہ اسلام میں اس دعا کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ دعا ایک اہم ترین عبادت ہے، احادیث مبارکہ میں اس کی ترغیب دی گئی ہے، چنانچہ حدیث شريف میں وارد ہے کہ نبی کریمﷺ ہر نماز کے بعد دعا مانگتے تھے، لہذا جس طرح دیگر مواقع پر دعا کرنا مستحب ہے اسی طرح نمازوں کے بعد بھی دعا کرنا مستحب ہے چاہے اجتماعی صورت میں ہو یا انفرادی صورت میں اور روایات کے عموم کی وجہ سے جمعہ اور عیدین کے بعد بھی دعا کرنا جائز ہے، تاہم مستحب امر پر عمل کرنا اس وقت تک موجب اجر و ثواب ہوتا ہے، جب تک اس کو لازم نہ سمجھا جائے اور اس کے ترک کرنے پر نکیر بھی نہ کی جائے۔
صورت مسئولہ کے مطابق دیگرنمازوں کی طرح جمعہ اور عید کی نماز کے بعدبھی اجتماعی دعا کرنا جائز اور موجب ثواب ہے،تاہم اس کے چھوڑنے والوں پر نکیر کرنا اور اس کو تنقید کا نشانہ بنانا جائز نہیں ۔
عن محمد أن أم عطية قالت: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نخرج ذوات الخدور يوم العيد، قيل: فالحيض؟ قال: ليشهدن الخير ودعوة المسلمين قال: فقالت امرأة: يا رسول الله، إن لم يكن لإحداهن ثوب كيف تصنع؟ قال: تلبسها صاحبتها طائفة من ثوبها. (سنن أبي داود، كتاب الصلوة، رقم الحديث:1123، ج:2، ص:346)
(قوله باب الدعاء بعد الصلاة)أي المكتوبة وفي هذه الترجمة رد على من زعم أن الدعاء بعد الصلاة لا يشرع ...قلت وما ادعاه من النفي مطلقا مردود، فقد ثبت عن معاذ بن جبل أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له يا معاذ إني والله لأحبك، فلا تدع دبر كل صلاة أن تقول: اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك. أخرجه أبو داود والنسائي وصححه بن حبان والحاكم وحديث أبي بكرة في قول اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعو بهن دبر كل صلاة. (فتح الباري بشرح البخاري، ج:12،ص:418)
(وسجدة الشكر: مستحبة به يفتى لكنها تكره بعد الصلاة لأن الجهلة يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه فمكروه) وحاصله أن ما ليس لها سبب لا تكره ما لم يؤد فعلها إلى اعتقاد الجهلة سنيتها كالتي يفعلها بعض الناس بعد الصلاة. (ردالمحتار علی الدر المختار، كتاب الصلوة، ج:2، ص:598 )