بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
والدین کابچے کامحمد نام رکھنے کی نیت کرنا
سوال
اگر پیدائش سے پہلے یہ نیت کی ہو کہ اگر بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام محمد رکھنا ہے اور پیدائش کے بعد میاں محمد سعد نام رکھ دیا جائے تو کیا ایسا کرنادرست ہے؟
جواب
"محمد" حضورِ اکرم ﷺ ایک اسم گرامی ہے، جو اللہ تعالی نے آپ ﷺ کے لیے منتخب فرمایا۔ نیز آپ ﷺ نے اپنے نام پر نام رکھنے کی ترغیب بھی دی ہے، لہذا اپنے بچے کانام "محمد" رکھنا افضل ومستحسن ہونے کے ساتھ ساتھ باعثِ برکت ہے۔لیکن اگر کوئی شخص یہ ارادہ کرلے کہ میں اپنے بیٹے کا نام محمد رکھوں گاتو اس پر یہ لازم نہیں کہ وہ ضروریہ نام رکھ لےبلکہ اس کی جگہ کوئی اور نام رکھنے کی بھی گنجائش ہے ۔
لہذا صورت مسؤلہ میں بچے کی پیدائش سے پہلے اگرارادہ ہو کہ اس کا نام "محمد" رکھیں گے تو یہ شرعی نذر (منت) کے حکم میں نہیں ہے، کہ اس کا پورا کرنا ضروری ہو، اس لیے اگر بعد میں محمدسعدنام رکھ لے تو شرعا اس کی اجازت ہے۔
عن أبي هريرةعن النبي صلى الله عليه وسلم قال:تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي.(صحيح البخاري،كتاب العلم باب إثم من كذب على النبي صلى الله عليه وسلم ،ج:1،ص:52، رقم الحدیث:110)
قال المناوي وعبد الله: أفضل مطلقا حتى من عبد الرحمن، وأفضلها بعدهما محمد، ثم أحمد ثم إبراهيم اهـ.(رد المحتارعلی الدر المختار،كتاب الحضروالإباحة،قوله أحب الأسماء…،ج :6،ص :417)