بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

چھوٹے بچے کی قے کا حکم


سوال

اگر کوئی بچہ ایسا ہو کہ ابھی تک اس کو ماں کے دودھ سے چھڑایا گیا نہ ہواس کی قے اگر  کپڑوں کو لگ جائے  کیا اس سے کپڑے نجس ہو تے ہیں  یا نہیں اورایسے کپڑوں میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب

بچےکی قے اگر منہ بھر کر ہو تو ناپاک ہے، اور نجاستِ  مغلظہ کے قبیل سے ہے، پس اگر کپڑوں کو لگ جائے تو کپڑے بھی ناپاک ہوجاتے ہیں بشرطیکہ قدرِ درہم سے زیادہ مقدار میں ہوں ۔ اگر اس سے کم مقدارمیں ہو اور نماز ادا کرلی تو نمازادا ہو جائے گی، لیکن اگرنماز سے پہلے معلوم ہو تو پاک کرلینا چاہیے۔تاہم اگر دودھ وغیرہ پینے یا کچھ کھانے کے بعد معدہ تک پہنچنے سے پہلے وہ منہ سے بہہ جائے تو وہ قے نہ ہونے کی وجہ سے  ناپاک نہیں۔

 

 (و) ينقضه ( قيء ملأ فاه ) بأن يضبط بتكلف ( من مرة ) بالكسر أي صفراء ( أو علق ) أي سوداء وأما العلق النازل من الرأس فغير ناقض ( أو طعام أو ماء ) إذا وصل إلى معدته وإن لم يستقر وهو نجس مغلظ ولو من صبي ساعة ارتضاعه هو الصحيح لمخالطة النجاسة(الدرالمختارعلی صدرردالمحتارج:1 ص: 137)

وصرحوا في باب الأنجاس أن نجاسة القيء مغلظةوفي معراج الدراية وعن أبي حنيفة قاء طعاما أو ماء فأصاب إنسانا شبرا في شبر لا يمنع وفي المجتبى الأصح أنه لا يمنع ما لم يفحش وهو صريح في أن نجاسته مخففة وحمله في فتح القدير على ما إذا قاء من ساعته وهو غير صحيح لأنه حينئذ طاهر كما قدمنا أنه غير ناقض(البحرالرئق ،کتاب الطھارۃ،ج:1 ص:37)


فتویٰ نمبر : 10578/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور