بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

أشهد أن لا إله إلا الله' میں (إلا) کو بغیر تشدید کے پڑھنا


سوال

اگر کوئی مؤذن اذان دیتے وقت 'أشهد أن لا إله إلا الله' میں 'إلا الله' کے لفظ 'إلا' کو بغیر تشدید کے پڑھے، تو کیا ایسی اذان شرعاً معتبر ہو گی یا ایسی دی ہوئی اذان کا اعادہ کیا جائے گا ؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے اذان صرف اعلان کا نام نہیں ہے، بلکہ  عبادت  بھی ہے اور مہتم بالشان اسلامی شعائربھی ہے اس کو اس کے آداب کے ساتھ ادا کرنا چاہیے  یہی وجہ ہے کہ اذان کے لیے متقی،پرہیز گار،الفاظ اذان کو صحیح ادا کر نے والا اور اوقات کی صحیح پہچان کر نے والا شخص مقرر کر نا چاہیے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی مؤذن اذان دیتے وقت 'أشهد أن لا إله إلا الله' میں 'إلا' کو بغیر تشدید کے پڑھے،تویہ غلطی ہے،لیکن اس سے معنی تبدیل نہیں ہوتا؛اس لیےشرعا ایسی اذان معتبر شمارہو گی اور ایسی دی ہوئی اذان  کا اعادہ نہیں کیا جائے گا،تاہم صحیح  تلفظ  تشدید کے ساتھ ہے لہذامؤذن پرضروری ہے کہ وہ اذان کے الفاظ  کی درست ادائیگی سیکھ کر صحیح تلفظ کے ساتھ اذان دینے کا اہتمام کرے ۔ 

 

(و) ‌يكره (‌التلحين) والمراد به التطريب يقال: لحن في قراءته إذا طرب بها أي يكره تغيير الكلمة عن وضعها بزيادة حرف أو حركة أو مد أو غيرها سواء في الأوائل أو في الأواخر وكذلك في قراءة القرآن ولا يحل الاستماع ولا بد أن يقوم من المجلس إذا قرئ باللحن، وأما تحسين الصوت لا بأس به إذا كان من غير تغن قيل لا يحل سماع المؤذن إذا لحن.وقال شمس الأئمة الحلواني: إنما يكره ذلك فيما كان من الأذكار، أما في قوله حي على الصلاة حي على الفلاح لا بأس فيه بإدخال مد ونحوه. ( مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر  باب الأذان،صفة الأذان،ج:1،ص:76)

قال مشايخنا لو أدخل المد بين الباء والراء في لفظ "أكبر" عند افتتاح الصلاة؛ لا يصير شارعا في الصلاة، بخلاف ما لو فعل المؤذن في أذانه حيث لا يجب إعادة الأذان، وإن كان خطأ منه؛ ‌لأن ‌أمر ‌الأذان ‌أوسع كذا في " الجامع الصغير " للإمام المحبوبي.(النهاية في شرح الهداية،كتاب الصلوة ،باب حكم التأمين بعد الفاتحة للإمام،ج:2 ،ص:237 )


فتویٰ نمبر : 10577/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور