بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
دیور کے ساتھ عمرے کے سفر پرجانا
سوال
ایک عورت عمرہ ادا کرنے کے لیے جانا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ دو چھوٹے بچے، ساس اور دیور ہوں گے، جبکہ اس کا شوہر دبئی میں ہے اور وہاں سے عمرہ کے لیے آئے گا۔ کیا ایسی صورت میں اس عورت کا اپنے دیور کے ساتھ عمرے کا سفر کرنا جائز ہے؟
جواب
شریعتِ مطہرہ میں عورت کے لیے محرم کے بغیر اڑتالیس میل یا آٹھہتر کلومیٹردور سفر کرنا جائز نہیں۔ عمرے کا سفر چونکہ شرعی مسافت میں داخل ہے، اس لیے عورت کے لیے محرم کے بغیر جانا شرعاً جائز نہیں۔ نیزایسا بچہ جو نہ بالغ ہو اور نہ ہی قریب البلوغ(مراہق) ہو، توسفر کے لیے یہ محرم شمار نہیں ہوگا، چنانچہ عورت کے لیے اس کے ساتھ شرعی سفر طےکرنا جائز نہیں۔
صورتِ مسؤلہ میں چونکہ دیور عورت کا محرم نہیں بلکہ غیر محرم ہے، اس لیے اس کے ساتھ سفر کرنا شرعاًجائز نہیں۔ البتہ اگر ہمراہ بچوں میں سے کوئی ایک بلوغت کو پہنچ چکا ہویا اس میں علاماتِ بلوغت ظاہر ہوچکی ہوں، تو ایسی صورت میں وہ عورت کے لیے محرم شمار ہوکراس کے ساتھ سفر کرنے کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ بچے مراہق نہ ہوں تو سفر کے لیے وہ محرم شمار نہیں ہوں گے۔ لہٰذا اس صورت میں عورت کے لیےاپنے دیور کے ساتھ عمرے کا سفر کرناشرعاًجائز نہیں ہوگا۔
عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا يحل لامرأة، تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم". (صحيح مسلم، كتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره، رقم الحديث:1338، ج:2، ص:975)
وفي الفتاوى في باب الغزاة: المرأة قبل أن تقبض مهرها لها أن تخرج في حوائجها وتزور الأقارب بغير إذن الزوج فإن أعطاها المهر ليس لها الخروج إلا بإذن الزوج، ولا تسافر مع عبدها خصيا كان أو فحلا، وكذا أبوها المجوسي، والمحرم غير المراهق بخلاف المراهق وحده ثلاثة عشر أو اثنا عشر، ولا تكون المرأة محرما لامرأة. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الطلاق،باب النفقة، ج:3، ص:58)