بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
غیر موقوفہ قبرستان میں تصرف کرنا
سوال
ایک شخص نے قبرستان کے لیے جگہ چھوڑی تھی لیکن مستقل وقف نہیں کی تھی،تقریباً100 سال ہوئے لیکن ابھی تک اس قبرستان میں کسی میت کی تدفین نہیں ہوئی ،اب اس قبرستان میں تصرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ محض نیت وارادہ سےکوئی چیز وقف نہیں ہوتی ،وقف تام ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو اس میں کم از کم ایک مرتبہ استعمال ہو جائے ،چنانچہ قبرستان کے لیے وقف کی گئی زمین کا وقف اس وقت تام متصور ہو گا جب اس میں میت دفن ہوجاناشروع ہو جائے ۔چنانچہ ایسی زمین جو قبرستان کے لیے چھوڑی گئی ہو لیکن اس میں میت دفنانا شروع نہ ہوا ہوتو وقف تام نہ ہونے کی وجہ سےاس میں تصرف کی اجازت ہے۔
لہذاصورت مسئولہ میں اگر زمین صرف قبرستان کی نیت سے چھوڑی گئی تھی لیکن اس میں کوئی میت دفن نہیں ہوئی ہوتو شرعاًیہ زمین مملوک متصور ہوگی،لہذامالکان کے لیے اس میں تصرف جائز ہے۔
الوقف إخراج المال عن الملك علی وجه الصدقة، فلایصح بدون التسلیم کسائر التصرفات. (بدائع الصنائع، کتاب الوقف والصدقة،فصل في شروط الجواز،ج:8،ص:394 )
وعند محمد لا يزول ملك الواقف إلا بالتسليم إلى المتولي أو إلی الموقوف عليه...... حتی أن علی قوله لو لم يسلم الوقف إلی المتولى لا يزول عن ملكه فله أن يرجع فى ذلك وإذا مات يورث عنه. (الفتاوى التاتارخانية،كتاب الوقف ، الفصل الثاني ،ج:8 ،ص:11،10)
والحاصل:أن التسليم على قول من يشترط التسليم وهو قول من يشترط التسليم وهو قول محمد يكون بإحدي طريقتين: إما بإثبات اليد للقيم عليها أو لحصول المقصود وذلك في السكنى في مسألة الدار وبالنزول في مسألة الخان وبالدفن في مسألة المقبرة وماأشبه ذلك. (الفتاوى التاتارخانية،كتاب الوقف،الفصل الثاني والعشرون ،ج:8،ص:185)