بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

فوتگی کے بعد قبرپرتین دن تک تلاوت کرنا


سوال

میت کی وفات کے بعد  تین چاردن صبح و شام قبر پر جاکر تلاوت کرناکیساہے؟

جواب

واضح رہے کہ فرائض کے سوا کسی بھی  نیک عمل  کا ثواب  میت کو  پہنچانا جائز ہے، چاہے  وہ عمل انفرادی طور  پر کیا جائے  یا اجتماعی طور پر کیا جائے،بشرط یہ کہ  اسے لازم نہ سمجھا جائے اور اس کے نہ کرنے والوں   پر طعن نہ کیا جائے ورنہ بدعت کے زمرے میں داخل ہو کر  نا جائز ہوگا۔

صورت مسٔولہ کے مطابق فوتگی کے بعد  تین دن صبح وشام میت  کی   قبرپر حاضر ہونا  اور وہاں پر  قرآن خوانی کرنا اگر کسی علاقے میں بطور رسم ورواج  اور لازم سمجھ کرکیاجاتاہوتویہ جائز نہ ہوگا۔البتہ اگر کہیں اس کارسم ورواج نہ اور  لازم سمجھےبغیر  کیاجائےتو گنجائش ہے۔

 

والأصل فيه أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذلك عند أصحابنا(البحرالرائق،كتاب الحج،باب الحج عن الغير،ج:3،ص:63)

فتلك هي الشاكلة في جميع المستحبات، فإنها تثبت طورا فطورا، ثم الأمة تواظب عليها. نعم نحكم بكونها بدعة إذا أفضى الأمر إلى النكير على من تركها.(فيض الباري شرح الصحيح للبخاري،كتاب الدعوات،باب الدعاء بعد الصلوة،ج:4،ص:417)


فتویٰ نمبر : 6316/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور