بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

فوتگی کے تیسرے دن نمازِ عصر کے بعد اجتماعی دعا


سوال

بعض علاقوں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ میت کے تیسرے دن مرحوم کے گھر عصر کے وقت لوگ جمع ہوتے ہیں، اس مجلس میں سب کے لیےشرکت ضروری سمجھی جاتی ہے، چاہے انہوں نے پہلے تعزیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ اور جو شخص اس میں شریک نہ ہو، اسے ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مجلس میں عموماً امام مسجد یا کوئی عالم دین بیان کرتے ہیں اور آخر میں دعا کی جاتی ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس عمل کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا میت کے تیسرے دن اس طرح کی مجلس کا انعقاد اور اس میں شرکت کو ضروری سمجھنا بدعت کے زمرے میں آتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب شریعت نے کسی خاص وقت کو کسی عبادت کے لیے مخصوص نہ کیا ہو، یا کسی نیکی کو خاص ہیئت یا کیفیت کے ساتھ ادا کرنے کا پابند نہ کیا ہو، تو اپنی طرف سے کسی وقت یا کیفیت کو متعین کرنا اور اس پر التزام کے ساتھ عمل کرنابدعت کے زمرے میں آتا ہے۔

صورتِ مسؤلہ میں فوتگی کے تیسرے دن نمازِ عصر کے بعدمرحوم کے گھر اجتماعی طور پر تعزیت کے لیےجمع ہونا، اور اس موقع پربیان کے لیے کسی عالم کو بلانا، نیز اس مجلس میں شرکت نہ کرنے والوں سے ناراضگی کا اظہار کرنا اور انہیں ناپسندیدہ سمجھنا، ان باتوں کا شریعت میں کوئی اصل نہیں، اس لیے ان تمام امور سے اجتناب لازم ہے۔ البتہ اگر لوگ  اتفاقی طور پر تیسرے دن جمع ہوجائیں، اور کوئی عالم وعظ و نصیحت کرے اور آخر میں دعا کرے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

 

عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌أحدث ‌في ‌أمرنا ‌هذا ما ليس فيه فهو رد» قال ابن عيسى: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «من صنع أمرا على غير أمرنا فهو رد». (سنن أبي داود، كتاب السنة، باب في لزوم السنة، رقم الحديث:4606، ج:4، ص:200)

قوله )وشر الأمور محدثاتها إلخ(..... والمحدثات بفتح الدال جمع محدثة والمراد بها ما أحدث وليس له أصل في الشرع ‌ويسمى ‌في ‌عرف ‌الشرع ‌بدعة وما كان له أصل يدل عليه الشرع فليس ببدعة. (فتح الباري، كتاب الفتن، باب الاقتداء بسنن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ج:13، ص:353)

وتستحب التعزية للرجال والنساء اللاتي لا يفتن لقوله صلى الله عليه وسلم: "من عزى أخاه بمصيبة كساه الله من حلل الكرامة يوم القيامة" وقوله صلى الله عليه وسلم: "من عزى مصابا فله مثل أجره"... ‌ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام وأولها أفضل وتكره بعدها لأنها تجدد الحزن وهو خلاف المقصود منها لأن المقصود منها ذكر ما يسلي صاحب الميت ويخفف حزنه ويحضه على الصبر كما نبهنا الشارع على هذا المقصود في غير ما حديث قوله: "من حلل الكرامة" أي الدالة على تكريم الله تعالى إياه وقد حث الشارع المصاب على الصبر والاحتساب وطلب الخلف عما تلف. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، کتاب الصلاة، باب احکام الجنائز، فصل في حملها ودفنها، ص:618)


فتویٰ نمبر : 6323/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور