بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پہلا،تیجہ اور ساتواں منانا


سوال

میت کی وفات کے بعد پہلے روز ،تیسرے روزاور ہر جمعہ  خیرات کرنا کیسا ہے؟

جواب

میت کے ایصال ثواب   کے لیے مخصوص ایام میں خیرات وصدقات  کرنا اور  لوگوں کو  دعوت دینا اور باقاعدہ ایک تقریب کی شکل دینا  ایسے امور ہیں جن کا شرعا  کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لیے فقہائے کرام  نے  تیجے،ساتویں  اور چالیسویں  کو بدعت کے زمرے میں شامل کیا ہے۔تاہم ایسے مواقع پر جو کھانا  پکایا جاتا ہے  اس کا کھانا حرا م نہیں ہے  لیکن  اہل علم  اور مقتدی حضرات کو ایسے کھانے سے اجتناب کرناچاہئےتا کہ ان کی شرکت سے لوگ جواز پر دلیل پیش نہ کریں اور ایک بدعت کو حوصلہ  افزائی نہ ملے۔

صورت مسئولہ میں میت کے ایصال ثواب کی خاطر پہلے ،تیسرےاور ہر جمعہ کےروز خیرات کرنابدعت شمار ہوگا۔لہذااس عمل کو ترک کرنا لازم اور ضروری ہے۔

 

ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت؛لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة ، وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال "كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة " وفي البزازية ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول ، والثالثُ،وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب صلاة الجنازة،مطلب في كراهية الضيافةمن اهل الميت،ج:3،ص:148)


فتویٰ نمبر : 6311/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور