بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نماز میں سجدوں کی تعداد میں شک ہونا


سوال

اگر کسی نمازی کو نماز کے تیسری رکعت کے سجدوں کی تعداد میں شک ہو جائے  کہ ایک سجدہ کیا یادو،تو وہ اپنی نماز کو کس طرح پورا کرے گا؟اور اگر  شک کے ساتھ پورا کیا اور کسی قسم کی تحری وغیرہ نہیں کی تو اس کی نماز کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

نمازی کو اگر شک پہلی مرتبہ ہوا ہو تو اس نماز کا اعادہ کرے گا اور اگر شک کثرت سے ہوتاہو،توتحری کرکےغالب گمان پر عمل کرے گاتحری کےلیے ایک رکن کی مقدار ٹھہراہو توسجدہ سہو کرے گا،اور اگر کسی بھی طرف غالب گمان نہ ہو تو اس صورت میں اقل کو ترجیح دےگا یعنی  اگرایک سجدہ اور دوسجدوں میں شک ہوجائے تو  ایک اور سجدہ کر لے اور  نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرلے تو نماز ادا ہوجائے گی۔

صورت مسئولہ میں  نمازی شک پیدا ہو جانے کے بعدتحری کرے اگر کسی جانب غالب گمان  پیدا ہوا، تو   اس پر عمل کرے۔تحری اگر ایک رکن کی مقدار ہو تو سجدہ سہوکرےگا۔اور اگر کسی جانب غالب گمان پیدا نہ ہو، تو کم کی جانب کو ترجیح دے یعنی ایک سجدہ مزید کرے اورسجدہ سہو بھی کرےاور اگر شک کے ساتھ نماز پوری کی اور کسی قسم کی تحری وغیرہ نہیں کی تو اس نماز کا احتیاطاً اعادہ کرے گا۔

 

(وإذا شك)في صلاته (من لم يكن ذلك) أي الشك (عادة له) وقيل من لم يشك في صلاة قط بعد بلوغه، وعليه أكثر المشايخ.بحر عن الخلاصة (كما صلى استأنف) بعمل مناف وبالسلام قاعدا أولى لانه المحلل (وإن كثر) شكه (عمل بغالب ظنه إن كان) له ظن للحرج (وإلا أخذ بالاقل) لتيقنه (وقعد في كل موضع توهمه موضع قعوده) ولو واجبا لئلا يصير تاركا فرض القعود أو واجبه.اعلم أنه (إذا شغله ذلك) الشك فتفكر (قدر أداء ركن ولم يشتغل حالة الشك بقراءة ولا تسبيح) ذكره في الذخيرة (‌وجب ‌عليه ‌سجود ‌السهو ‌في) جميع (صور الشك) سواء عمل بالتحري أو بنى على الاقل. فتح. لتأخير الركن، لكن في السراج أنه يسجد للسهو في أخذ الاقل مطلقا، وفي غلبة الظن إن تفكر قدر ركن.

فروع: أخبره عدل بأنه ما صلى أربعا وشك في صدقه وكذبه أعاد احتياطا.(الدرالمختارشرح تنوير الأبصار،كتاب الصلوة،‌‌باب سجود السهو،ج:2،ص:92)


فتویٰ نمبر : 10572/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور