بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
وقت سے پہلے اذان دے کر پڑھی گئی نماز کا حکم
سوال
اگر کسی نماز کی اذان وقت کے آغاز سے پہلے دی جائے، مگر نمازمقررہ وقت میں ادا کی جائے، تو کیا ایسی صورت میں نماز درست شمار ہوگی یا نہیں؟
جواب
نماز کے لیے اذان دینا سنت ہے، اوراذان اس وقت دی جائے گی جب نماز کا وقت داخل ہوجائے،نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے اذان دینا معتبر نہیں؛ وقت داخل ہونے کے بعد دوبارہ اذان دینی ہوگی،البتہ اگر وقت سے پہلے اذان دے کر وقت کے اندر نماز پڑھی جائے ،تو نماز ادا ہوجائے گی دہرانے کی ضرورت نہ ہوگی ۔
وأما بيان وقت الأذان والإقامة فوقتهما ما هو وقت الصلوات المكتوبات، حتى لو أذن قبل دخول الوقت لا يجزئه، ويعيده إذا دخل الوقت في الصلوات كلها في قول أبي حنيفة ومحمد.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصلاة، فصل بيان وقت الأذان والإقامة ،ج:1،ص:154)