بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
فوتگی پرمیت والوں کی طرف سے کھانے کا انتظام
سوال
میت کے گھر کھانا کھانے کا کیا حکم ہےجب کہ اس کھانے کا انتظام میت کے رشتہ داروں کی طرف سے ہومیت کے مال سے نہ ہو؟ اوراگر فوتگی کے بعد ورثا ایصال ثواب کی نیت سے میت کے مال سے کھانے کا انتظام کر لیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ خوشی کے موقع پردعوت کا کھانامشروع ہےغم کے موقع پرنہیں،اس لئے فقہاءنے تعزیت کے موقع پر کھانے کی دعوت کو مکروہ اور بدعت قرار دیا ہے، چنانچہ فوتگی کے موقع پر میت کے گھر والوں کی طرف سے کھانے کا انتظام مکروہ ہے، البتہ اگر تعزیت کے لئے لوگ دورسے آئے ہوں اور میت کے رشتہ دار یا پڑوسی ان کے لئے کھانے کا انتظام کرلیں تواس کی گنجائش ہے۔
اس کے علاوہ اگر میت کے ورثا ایصال ثواب کی نیت سے کھانے کا انتظام کرلیں اور ان میں کوئی نابالغ نہ ہوتو فی نفسہ اس کی گنجائش ہے لیکن عام طورپر چونکہ یہ رسم و رواج اور ریاکاری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس لئے جہاں اس طرح کا رواج ہووہاں اس سےاحترازکرنا چاہئےاور جہاں یتیم بچوں کے مال سے کھانا تیار کیا جائےتو یہ ناجائز ہے، کیونکہ یتیم کامال کھانا حرام ہے۔
قال الله تعالى:﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا﴾ )النساء:10(
ويكره اتّخاذالضّيافة في يوم المصيبة،وإن كان اتّخذ طعاماًللفقراء كان حسناً إن كانت الورثة بالغين، فإن كان في الورثة صغير لم يتّخذوا ذٰلك من التّركة.(الفتاوى التاتارخانية، كتاب الكراهية، فصل في الهدايا والضيافات، ج:18، ص:176)
ولا يباح اتّخاذ الضّيافة ثلاثة أيّام في أيّام المصيبة، وإذاتّخذ لا بأس بالأكل منه. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، ج:5، ص:398)
ويستحبّ لجيران أهل الميّت والأقرباء الأباعد تهيىٔةطعام لهم يشبعهم يومهم و ليلتهم. (ردّالمحتار على الدّرالمختار، كتاب الصلاة، باب صلاةالجنازة، مطلب في الثواب على المعصية، ج:3، ص:148)
من صام أو صلّٰى أوتصدّق، وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنّة والجماعة. (ردّالمحتار على الدّرالمختار، كتاب الصّلاة،فصل في صلاةالجنازة، مطلب في القراءة للميّت، ج:3، ص:151)