بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تصویر کے سامنے نماز پڑھنا


سوال

 میری سولر کی دکان ہے، اور یہاں مارکیٹ کے تمام لوگ نماز جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ لیکن جہاں جماعت ہوتی ہے، وہاں ہر دوکاندار نے اپنی دکان کے اوپر بورڈ پر اپنی تصویر لگائی ہوئی ہے، جو نمازیوں کے سامنے ہوتی ہے۔ تو کیا اس کا نماز پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ فقہائے کرام نےتصاویر والی جگہوں میں نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے اس لیے جس جگہ نماز کے دوران جاندار کی تصویر نمازی کے سامنے،اوپر،  دائیں یا بائیں ہو اور بڑی ہونے کی وجہ سے واضح نظر آتی ہو تووہاں نماز پڑھنا مکروہ ہےالبتہ اگر تصویراتنی چھوٹی ہوکہ واضح نظرنہ آتی ہو تو وہاں نماز پڑھنا مکروہ نہیں۔ اسی طرح اگر تصویر نمازی کے سامنے ہو تو اس کی کراہت اوپر،دائیں،بائیں اور پیچھے لگی تصویر سے زیادہ ہےاسی طرح دائیں طرف لگی تصویر کی کراہت بائیں اورپیچھے سے زیادہ ہےاور سب سے کم کراہت پیچھے لگی ہوئی تصویر کی ہے۔

لہذاصورت مسئولہ کے مطابق دوکان کے اوپر بورڑپر لگی ہوئی تصویر وں کےسامنے نماز ادا کرنا مکروہ ہے ۔نماز کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں سامنے تصاویر نہ ہوں۔

 

‌ويكره ‌أن ‌يصلي ‌وبين ‌يديه ‌أو ‌فوق ‌رأسه أو على يمينه أو على يساره أو في ثوبه تصاوير وفي البساط روايتان والصحيح أنه لا يكره على البساط إذا لم يسجد على التصاوير وهذا إذا كانت الصورة كبيرة تبدو للناظر من غير تكلف، كذا في فتاوى قاضي خان ،ولو كانت صغيرة بحيث لا تبدو للناظر إلا بتأمل لا يكره۔۔۔وأشدها كراهة أن تكون أمام المصلي ثم فوق رأسه ثم يمينه ثم يساره ثم خلفه. هكذا في الكافي وفي التهذيب ولو كانت على وسادة منصوبة بين يديه يكره ولو كانت ملقاة على الأرض لا يكره۔(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب السابع: فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:166)


فتویٰ نمبر : 10565/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور