بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد میں سولر سسٹم لگانے کی نذر ماننا


سوال

میں نے نذر مانی تھی کہ  اگر میرے بیٹے کوملائیشیاکا ویزہ مل جائے تو میں مسجد کے لئے سولر سسٹم کا انتظام کرونگا  اور میرے بیٹے کو ویزہ مل گیا ہےتو کیا اب مجھ پر مسجد کے لئے سولر سسٹم کا انتظام کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ نذر کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس کام کی نذر مانی جائے، اس کی جنس سے کوئی واجب عبادت موجود ہو ۔نیز اگر کسی نے ایسی جگہ رقم  یا کوئی چیز دینے کی نذر مانی   ہو جو نذر کا مصرف ہی نہ ہو تو اس سے نذر منعقد نہیں ہو گی، لہذا  اس کو پورا کرنا ضروری نہیں۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق سائل کا یہ کہنا کہ "اگر میرے بیٹے کو ملائیشیا کا ویزا مل جائے تو میں مسجد کے لیے سولر سسٹم کا انتظام کروں گا" تو یہ نذر منعقد نہیں ہوگی، کیونکہ مسجد میں سولر سسٹم لگانا  واجب عبادت نہیں۔نیز  مسجدنذر کا مصرف بھی نہیں  کیونکہ نذر  کی چیز کسی مستحق زکوٰۃکی ملکیت میں دینا ضروری ہے ایسی  نذر پوری کرنا ضروری نہیں۔

 

ومن ‌شروطه ‌أن ‌يكون قربة مقصودة فلا يصح النذر بعيادة المريض، وتشييع الجنازة، والوضوء، والاغتسال، ودخول المسجد، ومس المصحف، والأذان، وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك، وإن كانت قربا إلا أنها غير مقصودة  فهذا صريح في أن الشرط كون المنذور نفسه عبادة مقصودة لا ما كان من جنسه، ولذا صححوا النذر بالوقف لأن من جنسه واجبا وهو بناء مسجد للمسلمين كما يأتي مع أنك علمت أن بناء المساجد غير مقصود لذاته۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الأيمان،ج:3ص:735)

نذر ‌التصدق ‌على الأغنياء لم يصح ۔(رد المحتار على الدر المختار،کتاب الأيمان،ج:3ص:738)

(مصرف الزكاة والعشر)وهو ‌مصرف ‌أيضا ‌لصدقة ‌الفطر ‌والكفارة ‌والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة۔( ردالمحتار على الدرالمختار،کتاب الزکاۃ،باب مصرف الزکاۃ والعشر،ج:2،ص:339)


فتویٰ نمبر : 10563/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور