بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
ضرورت کےبغیرمسجد سےنکلنےپراعتکاف فاسدہونےمیں مفتی بہ قول
سوال
اعتکاف کے حوالےسےجویہ مسئلہ ہےکہ امام صاحب رحمہ اللہ فرماتےہیں کہ:اگربغیرضرورت کےانسان مسجد سےباہرنکل آئے، تواس کااعتکاف فاسد ہوجاتا ہےاورصاحبین رحمھمااللہ کےنزدیک ایک دن یارات سےزیادہ حصہ باہرنکل آئے، تواعتکاف فاسد ہوجاتاہے،آپ کےنزدیک مفتی بہ قول کون ساہے؟
جواب
واضح رہےکہ مسجد کےاندرقیام، اعتکاف کی بنیادی شرائط میں سےہے، یہی وجہ ہےکہ فقہائےکرام نے بلا ضرورت مسجد سےنکلنامفسدِاعتکاف قراردیا ہے، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ہاں بلا ضرورت تھوڑی دیرکےلیےمسجدسےنکلنابھی مفسدِاعتکاف ہےجب کہ صاحبین رحمھمااللہ کےہاں دن یارات کےاکثر حصےمیں بلاضرورت باہررہنےسےاعتکاف فاسدہوجاتاہے، اس سےکم وقت کےلیےنکلنےپرنہیں۔
ان دونوں اقوال میں سےاگرچہ بعض فقہا نےاستحساناًصاحبین رحمھمااللہ کےقول کوترجیح دی ہےلیکن احتیاط پرمبنی ہونےکی وجہ سےفتوی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کےقول پرہے۔ عوام کی سہولت کےلیےصاحبین رحمھما اللہ کےقول پرفتوی دینےمیں وسعت پائی جاتی ہے۔
فإن خرج من المسجد لغیرعذر فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة وإن كان ساعۃ، وعند أبي يوسف ومحمد: لا يفسد حتی یخرج أکثر من نصف یوم، قال محمد: قول أبي حنيفة أقيس، وقول أبي يوسف أوسع. (بدائع الصنائع، كتاب الاعتكاف، فصل في ركن الاعتكاف ومحظوراته، ج:3، ص:29)
ورجح المحقق في فتح القدير قوله: لأن الضرورة التي يناط بها التخفيف اللازمة أو الغالبة وليس هنا كذلك. (البحرالرائق، كتاب الصوم، باب الاعتكاف، ج:2، ص:529)
وأما مفسداته،فمنها: الخروج من المسجد.فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلاً ونهاراً إلا بعذر. وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامداً أو ناسياً، هكذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية،كتاب الصوم،الباب السابع:في الاعتكاف،ج:1،ص:275)