بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

میاں بیوی کا ایک جائے نماز پر نماز پڑھنا


سوال

کیا میاں بیوی ایک جائے نماز پر نماز  پڑھ سکتے ہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ شوہر اور بیوی اگر  ایک ساتھ کھڑے ہو کر اپنی اپنی نماز پڑھیں تو نماز فاسد نہیں ہوتی، لیکن اس طرح سے نماز پڑھنا مکروہ  تحریمی ہے۔ البتہ اگر ایک کمرے میں شوہر آگے کھڑا ہو اور بیوی پیچھے، تو دونوں کی نماز  بلا کراہت جائز ہے۔ اگر کمرے میں آگے پیچھے کھڑے ہونے کی جگہ نہ ہو تو درمیان میں کوئی حائل  یا کم از کم ایک آدمی کے کھڑے ہونے کا فاصلہ  رکھنا چاہیے،  اس صورت میں بھی نماز بلا کراہت درست ہوگی۔

لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق  اگر میاں بیوی ایک  جائے نماز پر کھڑے ہوکر نماز  پڑھ رہے ہوں اور درمیان میں کوئی فاصلہ یا حائل نہ ہو تو   ایسی صورت میں  کراہت کے ساتھ نماز ادا ہوگی لہذا نماز کو کراہت سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ایک جائے نماز پر کھڑے نہ ہوں۔

 

‌فمحاذاة ‌المصلية ‌لمصل ‌ليس ‌في ‌صلاتها ‌مكروهة ‌لا ‌مفسد فتح (تحريمة) (قوله ليس في صلاتها) بأن صليا منفردين أو مقتديا أحدهما بإمام لم يقتد به الآخر شرح المنية (قوله مكروهة) الظاهر أنها تحريمية لأنها مظنة الشهوة والكراهة۔(رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب الإمامة،ج:1،ص:573)

وحد المحاذاة أن يحاذي عضو منها عضوا من الرجل حتى لو كانت المرأة على الظلة والرجل بحذائها أسفل منها أو خلفها إن كان يحاذي الرجل شيئا منها تفسد صلاته وقيد بالمشتهاة؛ لأن غير المشتهاة لا تفسد صلاته۔ وفي فتاوى قاضي خان المرأة إذا صلت مع زوجها في البيت إن كان قدمها بحذاء قدم الزوج لا تجوز صلاتهما بالجماعة۔ (قوله وإن حاذته مشتهاة في صلاة مطلقة مشتركة تحريمة وأداء في مكان متحد بلا حائل فسدت صلاته إن نوى إمامتها)(البحرالرائق، كتاب الصلاة،باب الإمامة،ج:1،ص:376/377)


فتویٰ نمبر : 10559/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور