بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
بالوں کی خرید وفروخت
سوال
آج کل لوگ بالوں کی خرید وفروخت کرتے ہیں تو کیا بالوں کی خرید وفروخت کرنا جائز ہے ؟نیز اگر جائز نہیں تو اس کے ساتھ کیا کرنا چاہے؟
جواب
واضح رہے كہ شریعت نے انسان کے اعضاء کے احترام کا درس دیا ہے چاہے وہ اعضاء انسانی بدن کیسا تھ متصل ہوں یا اس سے جدا ہوں ،چنانچہ انسانی بالوں کی خرید وفروخت کرنا درست نہیں ،بلکہ اس کو دفن کرنا چاہیے۔اور اگر دفن کر ناممکن نہ ہو تو ایسی جگہ ڈالنا چاہیئے جہاں اس کی بے حرمتی نہ ہو۔
لا يجوز بيع شعور الإنسان ولا الانتفاع بما لأن الأدمي مكرم لا مبتذل فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا ومبتذلا. (الہدایۃ:کتاب البیوع،ج:3،ص:57)
ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء-(الفتاوی الہندیۃ:الباب التاسع عشر في الختان والخصاء،ج:5،ص:358)