بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کرنا


سوال

 آج کل قربانی کا گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا مستحب ہے، لازم اور ضروری نہیں ۔ ایک حصہ فقراء و مساکین کے لیے، ایک حصہ رشتہ داروں اور اقارب کے لیے، اور ایک حصہ اپنے  گھروالوں   کے   لیے رکھنا ،یہ افضل اور بہتر طریقہ ہے۔ اگر سارا گوشت غریبوں میں تقسیم کر دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، اور اگر سارا گوشت اپنے لیے رکھ لے تو اس  کی بھی گنجائش ہے۔   

 

‌ويستحب ‌أن ‌يأكل ‌من ‌أضحيته ويطعم منها غيره، والأفضل أن يتصدق بالثلث ويتخذ الثلث ضيافة لأقاربه وأصدقائه، ويدخر الثلث، ويطعم الغني والفقير جميعا، كذا في البدائع. ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي، كذا في الغياثية.

ولو تصدق بالكل جاز، ولو حبس الكل لنفسه جاز، وله أن يدخر الكل لنفسه فوق ثلاثة أيام إلا أن إطعامها والتصدق بها أفضل إلا أن يكون الرجل ذا عيال وغير موسع الحال فإن الأفضل له حينئذ أن يدعه لعياله ويوسع عليهم به۔(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية،الباب السادس في بيان ما يستحب في الأضحية،ج:5،ص:300)


فتویٰ نمبر : 10555/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور