بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
میت کی طرف سے قربانی
سوال
میرے والد فوت ہوچکے ہیں تو کیا میں اپنے والد کی طرف سے قربانی کرسکتا ہوں یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ اپنی واجب قربانی کے علاوہ بطورِ ایصالِ ثواب مزید نفلی قربانی کر کے اس کا ثواب کسی میت کو پہنچانا جائز ہے، بلکہ کسی بھی نیک کام کا اجر تمام امتِ محمدیہ ﷺ کو پہنچانا درست ہے، خود نبی اکرم ﷺ نے بھی اپنی امت کی طرف سے قربانی فرمائی تھی، لہذا صورت مسئولہ میں سائل اپنے والد کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے۔
الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها عند أهل السنة والجماعة لما روي عن النبي عليه الصلاة والسلام'' أنه ضحى بكبشين أملحين أحدهما عن نفسه والآخر عن أمته ممن أقر بوحدانية الله تعالى وشهد له بالبلاغ ''فجعل ثواب تضحية إحدى الشاتين لأمته ۔(الهداية،كتاب الحج،باب الحج عن الغير،ج:1،ص:178)