بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
دس ذی الحجہ کی صبح صادق سے پہلے انتظامیہ مزدلفہ سے نکالے تو وجوب دم
سوال
عرفات سے مزدلفہ آکر اگر انتظامیہ دس ذی الحجہ کی صبح صادق سے پہلے منی کی طرف نکال دے تو اس کی بنا پر وقوف مزدلفہ کے رہ جانے سے دم واجب ہوگا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ وقوفِ مزدلفہ کا وقت دس ذی الحجہ کے طلوعِ فجر (صبح صادق) سے طلوعِ آفتاب تک ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر عذر کے صبح صادق سے پہلے ہی منیٰ چلا گیا اور صبح صادق سے طلوعِ آفتاب کے درمیان وقوفِ مزدلفہ بالکل نہیں کیا تو اس پر دم لازم ہوگا۔ البتہ اگر کوئی عذر ہو، جیسے کوئی مریض ہو یا ضعیف ہو، یا انتظامیہ نے زبردستی صبح صادق سے پہلے منیٰ کی طرف نکالا ہو، تو ان اعذار کی وجہ سے دم لازم نہیں ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ کے مطابق، اگر انتظامیہ دس ذی الحجہ کی صبح صادق سے پہلے منیٰ کی طرف اس طور پر زبردستی نکالے کی مزدلفہ میں رکنا مشکل ہو توچونکہ یہ عذر ہے، اس وجہ سے ایسی صورت میں وقوفِ مزدلفہ کے رہ جانے سے دم واجب نہیں ہوگالیکن اگر انتظامیہ صرف نکالنے کا کہے لیکن کوئی زبردستی نہ کرے بلکہ حاجیوں کے لئے مز دلفہ میں قیام کرنا بغیر کسی مشکل کے ممکن ہو تو ایسی صورت میں مزدلفہ سے طلوع آفتاب سے قبل نکل جانے سے دم لازم ہوگا ۔
وإنما عرفنا الوجوب بقوله عليه الصلاة والسلام " من وقف معنا هذا الموقف وقد كان أفاض قبل ذلك من عرفات فقد تم حجه " علق به تمام الحج وهذا يصلح أمارة للوجوب غير أنه إذا تركه بعذر بأن يكون به ضعف أو علة أو كانت امرأة تخاف الزحام لا شيء عليه۔(الهداية،كتاب الحج،باب الإحرام،ج:1،ص:143)
وأما زمانه فما بين طلوع الفجر من يوم النحر، وطلوع الشمس فمن حصل بمزدلفة في هذا الوقت فقد أدرك الوقوف، سواء بات بها أو لا، ومن لم يحصل بها فيه فقد فاته الوقوف ، والسنة أن يبيت ليلة النحر بمزدلفة، والبيتوتة ليست بواجبة، إنما الواجب هو الوقوف۔(بدائع الصنائع،كتاب الحج ، فصل في رمي الجمار،ج:6،ص:136)