بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بچپن ميں طے شده رشتے سے انكار


سوال

 اگرکسی بچی کو بچپن میں اس نیت سےایک لڑکے کے نام کیا جائےکہ بالغ ہونے پراس کا نکاح اس لڑکےسے کیا جائے گا اور لڑکی کو بھی اس بات کا علم ہو، لیکن عملی طور پرنہ منگنی ہوئی ہو، نہ ہی نکاح کاکوئی رسم یا رواج ادا کیا گیا ہواورنہ ہی لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کو کچھ سامان (جسے پشتو میں "برخہ" کہا جاتا ہے) دیا گیا ہو، پھروہ لڑکی جب بالغ ہو کر تقریباً 25 سال کی عمرکو پہنچ جائے تواس رشتے سےانکار کردے، تو کیا اس کا انکارمعتبرہوگا؟ نیزکیا صرف "نام کرنے" سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے یا نکاح کے لیےگواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ مجلس نکاح، ایجاب و قبول اورمہرکی تعیین ضروری ہوتی ہے؟ نیزیہ بھی بیان کریں کہ مہرمقرر کرنے کا اختیارکس کوحاصل ہے؟

جواب

واضح رہےکہ عام طور پر منگنی صرف نکاح کے وعدے کے طور پر ہوتی ہے، جو شرعاًنکاح کا متبادل نہیں، اس لیے صرف منگنی یا وعدہ نکاح سے نکاح  منعقد نہیں ہوتا، جب تک باقاعدہ ایجاب و قبول اوردیگرشرعی شرائط پوری نہ کی جائیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نابالغ لڑکی کوکسی لڑکےکے نام کردیا جائےاوربالغ ہونے کے بعد وہ اس رشتے سے انکار کرے، تواسےشریعت کی رو سےانکار کا اختیارحاصل ہے، صرف بچپن میں "نام کرنے" سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، کیونکہ نکاح کے لیے ایجاب و قبول اور دو گواہوں کی موجودگی ضروری ہے، نیزمہر مقررکرنے کا اختیار بھی شرعاً عورت کوحاصل ہے، البتہ ولی یا خاندان کی مشاورت سے مناسب مہرطے کیا جاسکتا ہے، تاہم عورت کی رضامندی بہرحال ضروری ہے۔

 

النكاح ينعقدبالإيجاب والقبول بلفظين يعبربهماعن الماضي.... ولاينعقد نكاح المسلمين إلابحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أورجل وامرأتين. (الهداية، كتاب النكاح، ج: 2، ص: 325)

قال العلامة الشامي: قال في شرح الطحاوي: لو قال ‌هل‌أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب النكاح، ج: 4، ص: 72)


فتویٰ نمبر : 7191/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور