بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زبردستی رشتہ کروانے کا حکم


سوال

اگر کوئی لڑکی عاقلہ بالغہ ہو اور والدین اس کا رشتہ اس کی رضامندی کے بغیر کسی سے کروالیں تو کیا لڑکی کی رضامندی کے بغیر نکاح معتبر ہوگا؟نیز لڑکی اس رشتہ کو توڑ سکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ  عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر منعقد نہیں ہوسکتا،اگر ولی نے بغیر رضامندی کے نکاح کروالیا،تو نکاح لڑکی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔اگراس نے اجازت دیدی تو نکاح درست ہوجائےگا اور اگر نکاح کو رد کیا  تو  نکاح باطل شمار ہوگا۔

لہذاصورت مسئولہ کے مطابق لڑکی کی رضامندی کے بغیر رشتہ طے نہیں کیا جاسکتا ۔اوراس کی مرضی کے بغیر کیے گئے نکاح کی صورت میں اس کو نکاح باقی رکھنے اوریانکاح رد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ نکاح رد کرنے کی صورت میں نکاح باطل شمار ہوگا اور سرے سے نکاح معتبر ومنعقد ہی نہیں ہوگا۔

 

عن ابن عباس:‌أن جارية‌بكرا أتت النبي صلى الله عليه وسلم،فذكرت أن أباها زوجها وهي كارهة،فخيرها النبي صلى الله عليه وسلم.(مسند أحمد،مسند الخلفاء الراشدين،و من أخبار عثمان،ج:4،ص:275،رقم الحديث:2469)

(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح)؛لانقطاع الولاية بالبلوغ(فإن استأذنها هو)أي الولي وهو السنة(أو وكيله أو رسوله أو زوجها) وليها وأخبرها رسوله أو فضولي عدل(فسكتت)عن رده مختارة(أو ضحكت غير مستهزئة أو تبسمت أو بكت بلا صوت فهو اذن). (رد المحتار على الدر المختار،كتاب النكاح،باب الكفاءة،ج:4،ص:159)

لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا،فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها،فإن أجازته جاز وإن ردته بطل،كذا في السراج الوهاج،ولو ضحكت البكر عند الاستئمار أو بعدما بلغها الخبر فهو رضا. (الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب الرابع في الأولياء،ج:1،ص:287)


فتویٰ نمبر : 7193/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور