بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پہلے سے ملکیت میں موجود جانورمیں قربانی کی نیت کرنا


سوال

زید کے گھرمیں ایک بکری تھی، اس نے نیت کی کہ میں اس بکری کوقربانی کروں گا، تواب محض اس نیت کی وجہ سے اس پر، اس بکری کی قربانی کرنا واجب ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی صاحب نصاب شخص کسی جانورکو قربانی کی نیت سے خریدے، تواس صورت میں یہ لازم نہیں کہ اسی جانورہی کو قربانی میں ذبح کرے بلکہ دوسرے جانورکو بھی ذبح کرسکتا ہے، لیکن اگرغیرصاحب نصاب شخص نے کسی جانورکوقربانی کے لئے خریدا تواس کووہی جانورقربانی میں ذبح کرنا ہوگا، لیکن اگرخریدتے وقت قربانی کی نیت نہ کی ہوبلکہ بعد میں نیت کی تواس جانورکو قربانی میں ذبح کرنا لازم نہیں ۔

صورت مسئولہ میں زید نے بکری خریدتے وقت اگرقربانی کی نیت نہ کی تھی تواب قربانی کی نیت کرنے کی وجہ سے زید پر قربانی واجب نہ ہوگی خواہ زید صاحب نصاب ہویا غیر صاحب نصاب ۔

 

ولو ملك إنسان شاة فنوی إن یضحی بها أو اشتری ولم ینو الأضحیة وقت الشراء ثم نوی بعد ذالك أن یضحی لا یجب عليه سواء کان غنیاً أو فقیرا (الفتاوی الهندیة: کتاب الأضحیة،ج:5، ص:291)

(وفقير) عطف عليه (شراها لها)؛ لوجوبها عليه بذلك حتى يمتنع عليه بيعها۔۔۔ (قوله: لوجوبها عليه بذلك) أي بالشراء، وهذا ظاهر الرواية؛ لأن شراءه لها يجري مجرى الإيجاب، وهو النذر بالتضحية عرفاً۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار:کتاب الأضحيةج:6، ص:321)


فتویٰ نمبر : 10548/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور