بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
مقتدی سےعید کی پہلی رکعت میں تکبیرات زوائد کا چھوٹ جا نا
سوال
اگر عید کی نمازمیں پہلی رکعت میں نمازی امام کے ساتھ رکوع میں ملے،تو اس کی تکبیرات زوائد کا کیا ہوگا،جواس سے چھوٹ گئی ہیں ؟
جواب
عیدین کی نمازمیں پہلی رکعت کے رکوع میں امام کے ساتھ شامل ہونے والے شخص کو چا ہئے کہ تکبیر تحریمہ کہہ کر قیام کرے،پھراگر قیام کی حالت میں تین زائد تکبیرات کہنے کے بعد امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہو سکے،تو قیام کی حالت میں کانوں تک ہاتھ اُٹھاتے ہوئے تین زائد تکبیرات کہے ورنہ تکبیرِ تحریمہ کہنے کے بعد فوراً رکوع میں جاکر ، ہاتھ اٹھائے بغیر تکبیرات کہے،خواہ تسبیحات رکوع رہ کیوں نہ جائیں، اور اگر ان تکبیرات کے پورے ہونےسے قبل ہی امام رکوع سے سراُٹھالے،تو تکبیرات اس سے ساقط ہو جائیں گی ۔
و لو انتهى رجل إلى الإمام في الركوع في العيدين فإنه يكبر للافتتاح قائما فإن أمكنه أن يأتي بالتكبيرات و يدرك الركوع فعل و يكبر على رأي نفسه و إن لم يمكنه ركع و اشتغل بالتكبيرات (إلی قوله) و لا يرفع يديه إذا أتى بتكبيرات العيد في الركوع ،كذا في الكافي، و لو رفع الإمام رأسه بعدما أدى بعض التكبيرات فإنه يرفع رأسه و يتابع الإمام و تسقط عنه التكبيرات الباقية ، كذا في السراج الوهاج.( الفتاوى الهندية،كتاب الصلا ة،الباب السابع عشر في صلاة العيد،ج:1،ص:149)