بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
حالت حیض میں جماع کا حکم
سوال
اگر شوہرکسی اور شہر میں کام کرتا ہو اور دو ڈیڑھ ماہ بعد تین چار دن چھٹی پر گھر آئے اوراسی دن عورت کو ماہواری ہو توایسی صورت میں ان کا ہمبستری کرنا کیسا ہےجبکہ شوہر نے ماہورای ختم ہونے سے پہلے واپس جانا ہے؟
جواب
حیض کی حالت میں جماع کی حرمت قرآن مجید سے ثابت ہے اس لئے جان بوجھ کر حیض کے دوران جماع کرنا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح دوران حیض عورت کے ناف سے لیکر گھٹنوں تک کے حصے سے بلاحائل استمتاع ناجائز ہے البتہ حائل کی صورت میں ناف سے گھٹنے تک کے حصے سےاستمتاع کی گنجائش ہے اس حصے کے علاوہ عورت کے ساتھ بلاحائل اختلاط اور بدن سے استمتاع جائز ہے۔
صورت مسؤ لہ میں بھی حالت حیض میں جماع حرام اور ناجا ئز ہوگااور اسکا مرتکب گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا ،لہذا بہر صورت اس سے اجتناب ضروری ہے ۔اور اگر اس کا ارتکاب کر بیٹھے تو صدق دل سے اس پر توبہ کرے۔
قال الله تبارك وتعالى: وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡمَحِيضِۖ قُلۡ هُوَ أَذٗى فَٱعۡتَزِلُواْ ٱلنِّسَآءَ فِي ٱلۡمَحِيضِ وَلَا تَقۡرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطۡهُرۡنَۖ (سورۃ البقرۃ : 222)
وقربان ماتحت الإزار أي ويمنع الحيض قربان زوجها ما تحت إزارها ۔۔۔وقد علم من عباراتهم أنه يجوز الاستمتاع بالسرةوما فوقها، وبالركبة وما تحتها (البحر الرائق كتاب الطهارة، باب الحيض ج:1، ص: 342،345)