بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بغیر سینگ والے جانور کی قر بانی کرنا


سوال

اگر کوئی جانور پیدائشی طور پر بغیر سینگ کے ہو،یا پیدائشی طور پر تھے، لیکن بعد میں کسی وجہ سے  جڑ سے ٹوٹ گیا ہو، تو کیا ایسے جانور وں کی قربانی شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

وہ جانور جو پیدائشی طور پر بغیر سینگ کے ہو،اس کی قربانی شرعاً جائز ہےاوراگر کسی جانور کا سینگ ٹوٹ گیا ہو،تواگراس کے نتیجے میں ایسا زخم پیدا ہو گیا ہوجو جانور کے دماغ  کی ہڈی تک پہنچ چکا ہو،توایسے جانور کی قربانی شرعاً جائز نہیں،لیکن اگر سینگ کے ٹوٹنے سے جوزخم پیدا ہوا ہواس کا اثر دماغ کی ہڈی تک نہ پہنچا ہو یا پہنچا ہو،لیکن وہ زخم  ٹھیک ہو چکا ہو،توایسے جانور کی قربانی کرنا شرعاً جائز ہوگی۔

 

ويجوز بالجماء التي لا قرن لها، وكذا مكسورة القرن، كذا في الكافي. وإن بلغ الكسر المشاش لا يجزيه، والمشاش رءوس العظام مثل الركبتين والمرفقين، كذا في البدائع."(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج: 5، ص: 297)


فتویٰ نمبر : 10539/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور